السلام علیکم،
میرا ایک دوست آن لائن ٹریڈنگ کرتا ہے، اور اس نے مجھے بھی آن لائن ٹریڈنگ سیکھنے کے لئے کہا ہے۔ وہ آسٹریلیا میں رہتا ہے، اور امریکی اسٹاک مارکیٹ میں اسٹاک کی خرید وفروخت کرتا ہے۔ خرید وفروخت کیلئے اس نے ایک اپلیکیشن پر اپنا اکاؤنٹ بنایا ہے جسکا نام E toro ہے۔وہ شیئرز روز خریدتا اور روز فروخت کرتا ہے، اس طرح اسے جب قیمت بڑھتی ہے، تو منافع ہو جاتا ہے، اور جب قیمت کم ہونے لگتی ہے، تو اپلیکیشن میں ایک اوپشن ہوتا ہے، جس کی مدد سے جب قیمت سیٹ کی ہوئی حد تک کم ہوتی ہے، تو وہ خود ہی بیچ دیا جاتا ہے، تاکہ زیادہ نقصان سے بچا جا سکے۔ وہ صرف ان کمپنیوں میں شیئرز لیتا ہے جو ظاہری طور پر حلال کاروبار کرتی ہوں، نہ کہ کوئی حرام کام، مثلاً بینک، شراب، یا حرام کھانوں کی۔ میں نیوزی لینڈ میں رہتا ہوں، اور میں بھی اس سے سیکھنے کے بعد یہ کام کرنا چاہتا ہوں ، کیا یہ حلال و جائز ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔
جزاک اللہ خیراً، والسلام۔
واضح ہوکہ اگر کسی ایسی کمپنی کے شیئرز خریدے جائیں جس کا اصل کاروبار جائز ہو، ىعنى اس كمپنى كا كاروبار سود، جوا، شراب یا دیگر ناجائز امور پر مشتمل نہ ہو، تو مذكور شرائط (مثلاً: کمپنی کے کچھ فکسڈ اثاثےموجودہوں ، ماہانہ یا سالانہ نفع کی کوئی خاص رقم یقینی طور پر مقرر نہ ہو ، نفع و نقصان دونوں میں شراکت ہو اور آگے فروخت كرنے سے پہلے ان شىئرز كا رسك خرىدار كے نام ٹرانسفر ہو چكا ہو وغیرہ)کے ساتھ گنجائش ہے۔
البتہ سوال میں ذکر کردہ طریقہ، یعنی روزانہ قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے فوری نفع حاصل کرنے کے لیے بار بار خرید و فروخت (Day Trading)، عموماً سٹے بازی، غرر، قبضہ سے پہلے فروخت، اور سودی یا مشتبہ معاملات پر مشتمل ہوتی ہے۔ خصوصاً eToro جیسے پلیٹ فارمز پر CFD، leverage، margin trading اور short selling جیسی غیر شرعی سہولیات بھی عام ہوتی ہیں، جن میں حقیقی ملکیت حاصل نہیں ہوتی اور سودی پہلو بھی شامل ہوتا ہے۔لہٰذا احتیاط اسی میں ہے کہ موجودہ صورت میں اس قسم کےمشتبہ آن لائن ٹریڈنگ پلیٹ فارم سےمکمل اجتناب کیا جائے۔
كما في الدر المختار: (ولا يجوز بيعها) لحديث مسلم «إن الذي حرم شربها حرم بيعها» اهـ (كتاب الأشربة، ج:6 ص:449 ط: سعيد)
وفي رد المحتار: (قوله وتصدق إلخ) أصله أن الغلة للغاصب عندنا؛ لأن المنافع لا تتقوم إلا بالعقد والعاقد هو الغاصب فهو الذي جعل منافع العبد مالا بعقده، فكان هو أولى ببدلها، ويؤمر أن يتصدق بها لاستفادتها ببدل خبيث وهو التصرف في مال الغير درر اهـ (كتاب الغصب، مطلب في رد المغصوب وفيما لو أبى المالك قبوله، ج:6 ص:189 ط: سعيد)
وفي فقه البيوع: نعم، يتصور الإيجاب الموجه إلى الجمهور الذي ذكره المالكية فيما يحصل في البورصات العالمية، حيث يسجل رجلٌ إيجابه في الحاسوب (الكمبيوتر)، وهذا الإيجاب موجه إلى كل من يقرأه، وهذا التسجيل ليس دعوة للشراء فقط، وإنما هو إيجاب موجه إلى الجمهور بحكم العُرف. فكل من سجل قبوله في الحاسوب، تم له البيع " دون أن يكون للطرف الأول خيار اهـ (المبحث الأول، 9-الفرق بين الإيجاب والدعوة إلى العقد، ج:1 ص:37-38 ط: مكتبة معارف القرآن كراتشي)
کاروبار اور کاروباری شخص کا تعارف کرانے والے کو بعد میں نقصان کا ذمہ دار ٹھہرانا
یونیکوڈ شیئرز کا کاروبار 0