حضرت سمجھنا یہ چاہتا ہوں کہ کراچی اسٹاک ایکسچینج میں LUCKY CEMENT نام کی مشہور کمپنی ہے، اس کے شیئر ز لینا جائز ہے یا نا جائز ؟ شیئر ز لے کر کم از کم ایک سے دو مہینے رکھ کر بیچوں گا۔
واضح ہو کہ کسی بھی اسٹاک مارکیٹ سے شیئرز کی خرید و فروخت درج ذیل چار شرطوں کے ساتھ جائز ہے:
۱۔ جس کمپنی کے شیئرز خریدے جا رہے ہیں، وہ کمپنی کسی حرام کاروبار میں ملوث نہ ہو۔
۲۔ اس کمپنی کے تمام اثاثے اور املاک سیال اثاثوں (Liquid Assets)، یعنی رقم کی شکل میں نہ ہو، بلکہ کمپنی نے کچھ فکسڈ اثاثے (Fixed Assets) حاصل کر لئے ہو، مثلاً بلڈ نگ بنائی ہو یا زمین خریدی ہو۔
۳۔ اگر کمپنی کا بنیادی کاروبار حلال ہو، لیکن سودی لین دین کرتی ہو، تو ایسی صورت میں اس کی سالانہ میٹنگ میں سودی لین دین کے خلاف آواز اٹھائی جائے۔
۴۔ چوتھی شرط، جو حقیقت میں تیسری شرط کا ایک حصہ ہے، وہ یہ کہ جب منافع تقسیم (Dividend) ہو، تو وہ شخص انکم اسٹیٹمنٹ (Income Statement) کے ذریعے معلوم کرلے کہ آمدنی کا کتنا فیصد سودی ڈپازٹ سے حاصل ہوا ہے، پھر جتنا حصہ سودی ڈپازٹ سے حاصل ہوا ہے، اس کو صدقہ کر دے۔
لھذا مذ کورہ بالا تمام شرائط کی مکمل پابندی کے ساتھ اگر مذکور کمپنی کے شیئرز خرید کر بعد میں فروخت کر کے نفع حاصل کرے، تو اس سے حاصل شدہ نفع بھی حلال ہو گا۔
قال الله تعالى: { وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ وَمَنْ عَادَ فَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ } [البقرة: 275]
و في تفسير الطبري: القول في تأويل قوله تعالى: {وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ وَمَنْ عَادَ فَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (275)}۔
قال أبو جعفر: يعني جل ثناؤه: وأحلّ الله الأرباح في التجارة والشراء والبيع "وحرّم الربا"، يعني الزيادةَ التي يزاد رب المال بسبب زيادته غريمه في الأجل، وتأخيره دَيْنه عليه. يقول عز وجل: فليست الزيادتان اللتان إحداهما من وَجه البيع، والأخرى من وجه تأخير المال والزيادة في الأجل، سواء. وذلك أنِّي حرّمت إحدى الزيادتين = وهي التي من وجه تأخير المال والزيادة في الأجل = وأحللتُ الأخرى منهما، وهي التي من وجه الزيادة على رأس المال الذي ابتاع به البائع سلعته التي يبيعها، فيستفضلُ فَضْلها. فقال الله عز وجل: ليست الزيادة من وجه البيع نظيرَ الزيادة من وجه الربا، لأنّي أحللت البيع، وحرَّمت الرّبا، والأمر أمري والخلق خلقي، أقضي فيهم ما أشاء، وأستعبدهم بما أريد، ليس لأحد منهم أن يعترض في حكمي، ولا أن يخالف أمري، وإنما عليهم طاعتي والتسليمُ لحكمي. (6/ 13) واللہ اعلم بالصواب
کاروبار اور کاروباری شخص کا تعارف کرانے والے کو بعد میں نقصان کا ذمہ دار ٹھہرانا
یونیکوڈ شیئرز کا کاروبار 0