السلام علیکم:
گزارش ہے کہ میں مورخہ 31-07-2025کو اپنے ھوش و حواس میں لڑائی کے دوران اپنی زوجہ محترمہ کو ایک بار کہا کہ میں نے طلاق دی اس کے بعد تقریبا 10 دن بعد صلح ہو گئی اور وہ اپنے شوہر کے گھر آئی اور پھر ایک گھنٹے بعد دوبارہ اپنے بھائی کے گھر چلی گئی اور آج تک واپس اپنے شوہر کے پاس نہ آئی ہے۔
لہذا آپ سے اب یہ معلوم کرنا ہےکہ
1 کیا اس کو رجوع کرنا کہتے ہیں ؟
2 کیا طلاق ہو گئی ؟
3 اگر رجوع نہیں ہو ا تو اب رجوع کرنے کا کیا حکم ہے ۔
جزاک اللہ
صورتِ مسئولہ میں سائل نے اگر واضح اور صریح الفاظ جیسے ''طلاق دیتا ہوں '' کے ذریعے بیوی کو ایک طلاق رجعی دے کر دوران عدت یعنی دس دن بعد بیوی سے صلح کر لی ہو اور اس صلح کے دوران اس نے بیوی سے ایسے الفاظ کہے ہوں ،جو رجوع پر صراحتاً یاضمنا ًدلالت کرتے ہوں مثلا'' میں رجوع کرتا ہوں ،تم میری بیوی ہو ،میں بیوی کی طرح تمھیں ساتھ رکھوں گا'' یا عملا میاں بیوی والا تعلق قائم کیا ہو ،یا بیوی کو شہوت سے چھو لیا ہو یا اسے بوسہ دیا ہو ،تو اس سے یہ رجوع درست ہو کر میاں بیوی کا نکاح حسب سابق بحال ہو چکا ہے ،البتہ اگر اس صلح کے وقت رجوع کے الفاظ نہ کہے ہو ں اور نہ عملا رجوع کیا گیا ہو تو عدت گزرنے کے بعد میاں بیوی کا نکاح بالکلیہ ختم ہو چکا ہے۔لہٰذا اب اگر وہ دونوں باہمی رضامندگی سے دونوں ساتھ رہنا چاہتے ہوں ،تو نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ دو گواہوں کی موجودگی میں با ضابطہ ایجاب و قبول کر تے ہوئے تجدید نکاح کر کے ساتھ رہ سکتے ہیں ، لیکن بہر دو صورت آئندہ کے لئےشوہر کو دو طلاقوں کا اختیار حاصل ہوگا۔اس لیئے طلاق کے معاملے میں خوب احتیاط چاہیئے۔
کما فی فتاوی الہندیة :وإذا طلق الرجل إمرأته تطليقةً رجعيةً او تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض، كذا في الهداية.اھ( الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به ج:1،ص :470 دار الفكر بيروت )
و فیه أیضاً:إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة و بعد انقضائها.( فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به ج:1 ،ص:473 دار الفكر بيروت )
و فی الدر المختار: (هي استدامة الملك القائم) بلا عوض ما دامت (في العدة) (بنحو) متعلق باستدامة (رجعتك) ورددتك ومسكتك بلا نية لأنه صريح (و) بالفعل مع الكراهة (بكل ما يوجب حرمة المصاهرة) كمس. (قوله: بنحو راجعتك) الأولى أن يقول بالقول نحو راجعتك ليعطف عليه قوله الآتي وبالفعل ط، وهذا بيان لركنها وهو قول، أو فعل (قوله: مع الكراهة) الظاهر أنها تنزيه كما يشير إليه كلام البحر في شرح قوله والطلاق الرجعي لا يحرم الوطء رملي، ويؤيده قوله في الفتح - عند الكلام على قول الشافعي بحرمة الوطء -: إنه عندنا يحل لقيام ملك النكاح من كل وجه، وإنما يزول عند انقضاء العدة فيكون الحل قائماً قبل انقضائها. اهـ. (قوله: كمس) أي بشهوة، كما في المنح الخ(باب الرجعۃ ، ج:3 ، ص:397 دار الفكر - بيروت )
پشتو زبان میں بیوی کو "زمانہ خلاصہ دہ " یا" زمانہ پاتے دہ "کہنے سے طلاق واقع ہوگی؟
یونیکوڈ رجوع طلاق 1