کیا فرماتے ہیں علماء کرام اور مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت کا شوہر کئی دن سے پولیس کی تحویل میں ہے ، اور عورت دل میں ہی یہ نیت کر لیتی ہے کہ جب تک اس کا شوہر نہ آجائے ، وہ مستقل روزے رکھے گی ، اور روزے رکھنا بھی شروع کر دیتی ہے کہ دو یا تین روزے رکھنے کے بعد اس کے ایام شروع ہو جاتے ہیں، اس صورت میں عورت کے لیے کیا حکم ہو گا؟
وضاحت: اگر چہ عورت روزے رکھنے کی نیت دل میں کرتی ہے، زبان سے اظہار نہیں کرتی، لیکن پہلے روزے کے افطار کے وقت گھر والوں کے سامنے بطورِ خبر اس بات کا اظہار کرتی ہے کہ جب تک میرے شوہر واپس نہیں آئیں گے ، میں اس وقت تک روزے رکھوں گی۔کیا ایسی صورت میں نذر منعقد ہو جائے گی ؟
واضح ہو کہ انعقاد نذر کے لیے چونکہ زبان سے تلفظ ضروری ہے، فقط دل میں نیت کرنے سے نذر لازم نہیں ہوتی ، لہذا مسئولہ صورت میں مذکور خاتون نے اگر محض دل میں نیت کی ہو ، زبان سے مذکور الفاظ ادا نہ کیے ہوں تو اس سے نذر منعقد نہیں ہوئی، لہذا اس کے ذمہ روزوں کی ادائیگی شر عالازم نہیں۔
كما في درر الحكام شرح غرر الأحكام: والنذر لا يكون إلا باللسان، ولو نذر بقلبه لا يلزمه بخلاف النية؛ لأن النذر عمل اللسان والنية المشروعة انبعاث القلب على شأن أن يكون لله تعالى كذا في البزازية اھ (1/ 212)۔