السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! بعد از سلام مسنون عرض یہ ہیکہ زید کے بیٹے کو سانپ نے ڈس لیا ، پھر زید نے یہ نذر مانی کہ اگر وہ شفایاب ہو ،ا تو ایک سال روزے رکھے گا ، اس میں اس نے کسی اور چیز کی نیت نہیں کی تھی یعنی مسلسل رکھنے نہ رکھنے کی نیت نہیں کی تھی ، ابھی اس پر یہ روزے مسلسل رکھنا ضروری ہے یا نہیں ؟ اور فدیہ دے سکتا ہے یا نہیں ؟ فدیہ کی رقم کتنی ہوگی؟ ملحوظ رہے یہ بات کہ اس نے تین مہینے روزے رکھے ، پھر چھوڑ دیئے اُن روزوں کا کیا بنے گا ؟
صورت مسئولہ میں جب شخص مذکور نے مذکور الفاظ " اگر وہ شفایاب ہوا تو ایک سال روزے رکھے گا" کہہ دئیے،تو اس سے نذر معلق ہوچکی ، لہذا بیٹے کی شفایابی کے بعداس پر اسی نذر کو پوری کرنا شرعاً لازم ہے ، چنانچہ جب تک روزہ رکھنے کی استطاعت ہو تو فدیہ دینا درست نہیں ، بلکہ روزے رکھنا ہی لازم ہے ، اور تین ماہ جو روزے رکھ چکا ہے ، وہ درست ہوچکے ہیں ، البتہ بقیہ نو ماہ کے روزےاس پر لازم ہیں۔
کما فی المصنف لابن أبی شیبۃ : عن يونس، عن الحسن، في رجل جعل عليه صوم شهر قال: «من سمى شهرا معلوما، فليصمه وليتابع، وإذا لم يسم شهرا معلوما، ولم ينوه، فليستقبل الأيام، فليصم ثلاثين يوما، فإن صام على رؤية الهلال، وأفطر على رؤيته، فكانت تسعة وعشرين أجزأه ذلك، وإن فرق إذا استقبل الأيام»(ج3ص102 الباب فی رجل جعل علیہ صوم شھر)۔
وفی الھندیہ: ولو قال لله علي صوم سنة، ولم يعين يصوم سنة بالأهلة ويقضي خمسة وثلاثين يوما ثلاثين يوما لرمضان وخمسة أيام قضاء عن يوم الفطر والنحر، وأيام التشريق الخ ( ج 1 ص 210 الباب السادس فی النذر ط ماجدیہ) ۔
وفیھاایضاً: ومما يتصل بذلك مسائل النذر) من نذر نذرا مطلقا فعليه الوفاء به كذا في الهداية الخ ( ج 2 ص 65 الفصل الثانی فی الکفارۃ ط ماجدیہ)۔