میں نے حمل کے ایام میں نذر مانی تھی کہ جو بچہ میرے بطن میں ہے ، اس کو عالم و حافظ بناؤں گی ، کیا یہ نذر پوری کرنا ضروری ہے ؟ کیونکہ حافظ و عالم بننا فرض کفایہ ہے ، براہِ کرم وضاحت کر دیں ۔
نذر منعقد ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے، کہ جس عمل کی نذر مانی جائے وہ عبادتِ مقصودہ (فرض یا واجب) کی جنس میں سے ہو ، جبکہ علم اور حفظ کرنا بذاتِ خود عباداتِ مقصودہ میں سے نہیں، لہذا سائلہ کی نذر شرعاً منعقد نہیں ہوئی ، لیکن یہ چونکہ اللہ رب العزت کے ساتھ کیا گیا ایک وعدہ ہے، اس لۓ حتی المقدور اسے پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہیۓ ، تاہم اگر سائلہ کسی بھی وجہ سے اپنے اس بچے کو حافظ یا عالم نہ بناسکے تو اس کی وجہ سے سائلہ گنہگا ر نہ ہوگی۔
فی الدر المختار : (و لم يلزم) الناذر (ما ليس من جنسه فرض كعيادة مريض و تشييع جنازة و دخول مسجد) و لو مسجد الرسول - صلى الله عليه و سلم - أو الأقصى لأنه ليس من جنسها فرض مقصود و هذا هو الضابط كما في الدرر (كتاب الأيمان ، 736/3 ، ط : دار الفکر)۔
و فی البحر الرائق : و أن شرائطه أربعة : أن لا يكون معصية لذاته فخرج النذر بصوم يوم النحر لصحة النذر به لأنه لغيره ، و أن يكون من جنسه واجب ، و أن يكون ذلك الواجب عبادة مقصودة ، و أن لا يكون واجبا عليه قبل النذر فلو نذر حجة الإسلام لم يلزمه شيء غيرها اھ (321/4 ، ط : دار الکتاب الاسلامی)۔
و فی الھندیۃ : الأصل أن النذر لا يصح إلا بشروط (أحدها) أن يكون الواجب من جنسه شرعا فلذلك لم يصح النذر بعيادة المريض اھ (الباب السادس في النذر ، 208/1 ، ط : دار الفکر)۔