کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ (۱) عقیدۂ ظہورِ مہدی کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
(۲) جو شخص اس عقیدے کو نہ مانتا ہو اور کہتا ہو کہ یہ شیعہ عقیدہ ہے اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
(۳) جو شخص ظہورِ مہدی کے عقیدے کو جھٹلانے میں یہ گنجائش نکالتا ہو کہ میں حدیث کو تو مانتا ہوں مگر ظہورِ مہدی کے باب میں جو حدیثیں ہیں وہ صحیح ہیں،یہ نہیں مانتا ایسے شخص کا کیا شرعی حکم ہے؟
(۴) وہ شخص جو ظہورِ مہدی کے عقیدے کو من گھڑت اور شیعہ عقیدہ کہتا ہے اگر وہ ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھے جو ظہورِ مہدی کا عقیدہ رکھنے والا ہو تو کیا منکرِ عقیدۂ ظہورِ مہدی کی نماز اس امام کی اقتداء میں درست ہوگی؟
(۵) ایسا شخص جس کی شہرت ہو کہ وہ منکرِعقیدۂ ظہورِ مہدی ہے کیا اس کا جنازہ پڑھا جائے گا یا نہیں؟
(۶) ایسے شخص کی توبہ اعلانیہ ہو یا خفیہ؟ اگر وہ خفیہ توبہ کرلے تو توبہ ہوجائے گی؟ ایسی صورت میں وہ لوگ جو اس کی بدعقیدگی کی وجہ سے بدظن ہوچکے ہیں وہ کہاں تک حق بجانب ہوں گے کیونکہ انہیں توبہ کا علم نہیں؟
مذکورہ سوالات کے جواب سے پہلے ایک اُصولی تمہید کا جان لینا ضروری معلوم ہوتا ہے وہ یہ کہ حضرت امام مہدی کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے بکثرت احادیثِ مبارکہ میں بشارت دی ہے اور فرمایا کہ اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوسکتی جب تک کہ میری اولاد اور میرے اہلِ بیت میں سے ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ پیدا نہ فرمائیں جس کا نام گرامی میرے نام اور اس کے والد کا نام میرے والد کے مثل ہو اور وہ پوری دنیا کو عدل و انصاف سے بھردے گا اور ظلم و تشدد کا خاتمہ کردے گا ایک حدیث مبارک میں فرمایا کہ امام مہدی حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کی اولاد سے ہوں گے اور ٹھیک قیامت کے قریب ان کا ظہور ہوگا، بیت اللہ شریف میں رُکن یعنی حجرِ اسود اور مقامِ ابراہیم کے درمیان لوگ ان سے بیعت لیں گے اور پھر لشکرِ اسلام کی کفار اور مشرکین کے ساتھ بڑی بڑی خونریز جنگیں ہوں گی اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور ہوگا اور کانے دجال اور اس کے لشکر کو ختم کردیا جائے گا چنانچہ احادیثِ مبارکہ میں بڑی تفصیل سے اس بارے میں وضاحت فرمائی گئی ہے جسے چاہئے تو مشکوٰۃ المصابیح کے باب اشراط الساعۃ کے صفحہ ۴۷۰، ۴۷۱ کا اور دیگر کتب احادیث کا مطالعہ کرلے ہم نے یہاں مختصراً ایک چیز کا ثبوت بیان کیا ہے۔
اس کے بعد آپ کے سوالات کا جواب علیحدہ طور پر مختصراً بھی لکھا جاتا ہے:
(۱ تا ۳) مذکورہ بالا وضاحت کے مطابق اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ یہی ہے کہ یہ تمام خبریں جو نبی اکرم ﷺ نے دی ہیں برحق ہیں اور قربِ قیامت ایسا ضرور ہوگا، لہٰذا جو شخص اس عقیدہ کو درست نہیں مانتا اور اسے شیعہ کے عقائد میں سے شمار کرتا ہے وہ احادیثِ صریحہ کا منکر ہے جو یقینا گمراہی کا ذریعہ ہے، لہٰذا اس قسم کے عقائد و نظریات سے احتراز لازم ہے اور اسے چاہئے کہ اپنے باطل زعم پر توبہ واستغفار بھی کرے۔
(۴) اس کی نماز ادا ہوجائے گی۔
(۵) اس پر نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی۔
(۶) صورتِ مسئولہ میں مذکور شخص اگر واقعۃً صدقِ دل سے توبہ واستغفار کرلے تو اس کی مغفرت کیلئے کافی ہے، اگرچہ خفیہ طور پر ہی کیوں نہ کرے، البتہ اس شخص نے اگر اپنے ان غلط خیالات اور باطل عقیدے میں شدت اختیار کرکے شہرت پکڑلی ہو تو اسے اپنی توبہ کا اظہار کرنا بھی ضروری ہے اور پھر اپنے ان باطل خیالات کی وجہ سے جتنے لوگوں کو راہِ اعتدال سے ہٹایا ہے تو اب اُنہیں صحیح صورتِ حال سے آگاہ بھی کرے تاکہ وبالِ آخرت سے بھی سکبدوشی حاصل ہوسکے۔
کما فی المشکوٰۃ: عن أم سلمۃؓ قالت سمعت رسول اﷲ ﷺ یقول المہدی من عترتی من أولاد فاطمۃ۔ (الحدیث)-
عن أبی سعید الخدریؓ قال قال رسول اﷲ ﷺ المہدی منی أجلے الجبہۃ أقنی الأنف یملأ الأرض قسطًا وعدلا کما ملئت ظلما وجورًا یملک سبع سنین۔
وعنہ: عن النبی ﷺ فی قصۃ المہدی قال فیجیئی إلیہ الرجل فیقول یا مہدی اعطنی اعطنی فیجیثی لہ فی ثوبہ ما استطاع أن یحملہ۔ الخ (ص۴۷۰، ۴۷۱) واﷲ اعلم