ایک بھینس بیمار ہونے کی صورت میں مرنے کے قریب ہو گئی تو ایک عورت اور مرد یعنی ماں اور بیٹے نے کہا اگر بھینس بچ گئی تو اسے پیرانِ پیر دستگیر کے نام پر خیرات کریں گے ، اب وہ اس بھینس کے ساتھ حسبِ وعدہ وہی معاملہ کرنا چاہتے ہیں، تو میں نے بھائی (سوتیلے) ہونے کے ناطے جب انہیں سمجھایا تو ان سے بڑے اورسگے بھائی نے مجھے وہابی کہہ کر بولا کہ ہم نے کوئی تاریخ کا تعین نہیں کیا ، براہِ مہربانی اس کا صحیح حل بتائیں،
صورتِ مسئولہ میں مذکور پیرانِ پیر کے نام پر صدقہ کرنے سے اگر مراد پیرانِ پیر کا تقرّب اور انہیں خوش کرنا وغیرہ ہو تو یہ نذر للمخلوق ہے، جو "و مااھل لغیراللہ" میں داخل ہونے کی وجہ سے باطل و ناجائز اور اس کا کھانا بھی حرام ہے، یہ عمل ایک مسلمان کی شان کے قطعاً لائق نہیں، اور اگر اس سے مقصد پیرانِ پیر کو محض ایصالِ ثواب ہو اور صدقہ کے ذریعہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی اور تقرب وغیرہ مقصود ہو تو اس صورت میں یہ ذبیحہ بلا شبہ جائز اور حلال ہوگا اور اس کا کھانا بھی جائز ہے، لہٰذا پہلے طریقۂ عمل سے احتراز اور دوسرے کو اختیار کرنا لازم ہے۔
فی مشكاة المصابيح : و عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من نذر أن يطيع الله فليطعه و من نذر أن يعصيه فلا يعصه». رواه البخاري اھ(2/64)۔
و فی الدرالمختار : و اعلم أن النذر الذي يقع للأموات من أكثر العوام(إلی قوله)ضرائح الأولياء الكرام تقربا إليهم فهو بالإجماع باطل و حرام اھ وفی الشامیة :(قوله باطل وحرام) لوجوه : منها أنه نذر لمخلوق و النذر للمخلوق لا يجوز لأنه عبادة و العبادة لا تكون لمخلوق. و منها أنه إن ظن أن الميت يتصرف في الأمور دون الله تعالى و اعتقاده ذلك كفر، اللهم إلا إن قال يا الله إني نذرت لك إن شفيت مريضي أو رددت غائبي أو قضيت حاجتي أن أطعم الفقراء الذين بباب السيدة نفيسة أو الإمام الشافعي أو الإمام الليث أو اشترى حصرا لمساجدهم أو زيتا لوقودها أو دراهم لمن يقوم بشعائرها إلى غير ذلك مما يكون فيه نفع للفقراء و النذر لله عز وجل و ذكر الشيخ إنما هو محل لصرف النذر لمستحقيه القاطنين برباطه أو مسجده فيجوز بهذا الاعتبار، و لا يجوز أن يصرف ذلك لغني و لا لشريف منصب أو ذي نسب أو علم، ما لم يكن فقيرا و لم يثبت في الشرع جواز الصرف للأغنياء للإجماع على حرمة النذر للمخلوق ، و لا ينعقد ولا تشتغل الذمة به و لأنه حرام بل سحت و لا يجوز لخادم الشيخ أخذه إلا أن يكون فقيرا أو له عيال فقراء عاجزون فيأخذونه على سبيل الصدقة المبتدأة ، و أخذه أيضا مكروه ما لم يقصد الناذر التقرب إلى الله تعالى و صرفه إلى الفقراء ، و يقطع النظر عن نذر الشيخ بحر ملخصا عن شرح العلامة قاسم اھ(۲/۴۳۹)۔