کسی کام کے لیے نفل ماننے کی کیا حقیقت ہے؟ کیا احادیث میں اس کا ذکر ملتا ہے؟
کسی کام کے ہو جانے پر نفل ماننا منت اور نذر کہلاتا ہے اور نذر کا ثبوت قرآن وسنت دونوں سے ہے۔
قال اللہ تعالیٰ: ﴿يُوفُونَ بِالنَّذْرِ وَيَخَافُونَ يَوْمًا كَانَ شَرُّهُ مُسْتَطِيرًا﴾ (الإنسان: 7)
وفی مشكاة المصابيح: وعن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من نذر أن يطيع الله فليطعه ومن نذر أن يعصيه فلا يعصه» رواه البخاري اھ (2/ 1022)واللہ اعلم