السلام علیکم
مفتی صاحب سوال عرض ہے کہ میں نے مختلف گناہوں پے نذر لگائی ہے کہ اگر میں فلاں گناہ کرونگا تو اتنی اتنی رکعت نمازِ نفل ادا کرونگا ۔
اب میں اس نذر کو ختم کرنا چاہتا ہوں اور دوبارہ نذر کچھ مخصوص گناہوں پے لگانا چاہتا ہوں ۔رہنمائی فرمائیں , میں کیا کروں ؟
واضح ہو کہ نذر یا منت ماننے اور متعین کرنے کے بعد ختم نہیں کی جاسکتی ،البتہ اگر سائل نے کسی کام سے متعلق تسلسل کے ساتھ نذر نہ مانی ہو , تو جن امور کے متعلق مطلقاً نذر مانی تھی وہ کام کرنےسے وہ نذر بھی لازم ہوجائے گی ،اور دوبارہ اس کام کے کرنے پر کوئی نذر لازم نہ ہوگی۔