محترم مفتی صاحب!
میرا ایک بڑا بھائی ہے جو کاروبار کرتا تھا، جس میں اس نے متعدد مرتبہ نقصان کیا۔ ہر بار نقصان کی صورت میں، میں نے اس کی مالی مدد کی۔ آخری مرتبہ جب میں نے مدد کی تو ساتھ یہ بھی کہا کہ براہِ کرم اب کاروبار نہ کریں، کیونکہ آپ سے یہ کام نہیں ہو پا رہا۔ اس کے باوجود اس نے دوبارہ کاروبار کیا اور ایک مرتبہ پھر نقصان کر بیٹھا، جس کی وجہ سے قرض خواہ اس کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔
اس صورتحال کے باعث میری والدہ بہت پریشان ہیں، اور اس کے بچے بھی سخت مشکلات میں مبتلا ہیں۔ اس کے تین بچے ہیں اور اس کی اہلیہ کا انتقال ہو چکا ہے، لہٰذا ہماری والدہ ہی ان بچوں کی کفالت اور دیکھ بھال کر رہی ہیں۔ میں بھی گھر میں رہتے ہوئے اس کی کسی حد تک مالی مدد کرتا ہوں۔
اس کے ساتھ ساتھ میں پچھلے دو سال سے اسٹاک ایکسچینج میں شیئرز کا کام کر رہا ہوں، اور میں نے نیت کی تھی کہ اس کام سے جو نفع حاصل ہوگا، اس کا دس فیصد اللہ کی راہ میں خرچ کروں گا۔
میرا سوال یہ ہے کہ جو رقم میں نے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی نیت کی ہوئی ہے، کیا وہ اپنے بھائی کا قرض ادا کرنے کے لیے دینا شرعاً جائز ہے؟ اور اگر یہ جائز نہیں، تو کیا اس رقم کو میرے بھائی کے بچوں کی کفالت پر خرچ کرنا جائز ہوگا؟
صورت مسئولہ میں سائل کا مذکور دس فیصد منافع اپنے مستحق بھائی کو قرض اتارنے کے لئے دینا یا اس کی اولاد کی ضروریات میں صرف کرنا بلاشبہ جائز اور درست بلکہ دہرے اجر کا باعث ہے، کیونکہ اپنے مذکورہ بھائی کو دینے میں ایک تو صدقہ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ صلہ رحمی بھی ہے ،اس لئے سائل کو چاہئیے کہ اپنے بھائی کو نصیحت اور رہنمائی کے ساتھ اس کے ساتھ مالی تعاون بھی کرتا رہے ۔