ایک آدمی کہتا ہے کہ میرا فلاں کام پورا ہونے پر میں ہزار رکعت نوافل پڑھوں گا ، کام پورا ہو گیا، اب مجھ پر نوافل پڑھنا لازم ہے یا دوسرا طریقہ بتائیں، فدیہ دے سکتا ہوں؟
اگر وہ کام پورا ہوگیا ہو تو اس پر اپنی نذر کا پورا کرنا واجب ہے، اگرچہ بیک وقت اتنی رکعات کا پڑھنا ضروری نہیں بلکہ تھوڑی تھوڑی کر کے بھی پڑھ سکتا ہے اور اگر عذر ہو تو اس کی تفصیل لکھ کر دوبارہ حکمِ شرعی معلوم کیا جا سکتا ہے۔
فی الدر المختار : (و من نذر نذرا مطلقا أو معلقا بشرط و كان من جنسه واجب) أي فرض كما سيصرح به تبعا للبحر و الدرر (و هو عبادة مقصودة) خرج الوضوء و تكفين الميت (و وجد الشرط) المعلق به (لزم الناذر) لحديث «من نذر و سمى فعليه الوفاء بما سمى» (كصوم و صلاة و صدقة) اھ (3/ 735)-