کیا منت ماننا جائز ہے ۔۔ ؟ مثلاً یہ کہنا کہ اگر میرا فلاں کام ہوگیا تو میں شکرانے کے طور پر اتنے نوافل ادا کروں گا یا اتنی رقم صدقہ و خیرات کروں گا ۔۔
جی ہاں! منت ماننا شرعاً جائز ہے جبکہ منت کے درست اور لازم ہونے کے لیے ضروری ہے کہ جس چیز کی منت مانی جا رہی ہے وہ عبادت مقصودہ اور فرائض کی جنس میں سے ہو اور پہلے سے منت ماننے والے پر لازم نہ ہو، لہذا صورت مسئولہ میں کام کے ہو جانے پر بطور شکرانہ نوافل أدا کرنے یا رقم صدقہ و خیرات کر دینے کی منت درست اور کام ہو جانے پر اس کا پورا کرنا لازم ہو گا
وفي الدر المختار :(ومن نذر نذرا مطلقا أو معلقا بشرط وكان من جنسه واجب) أي فرض كما سيصرح به تبعا للبحر والدرر (وهو عبادة مقصودة) خرج الوضوء،وتكفين الميت (ووجد الشرط) المعلق به (لزم الناذر) لحديث "من نذر وسمَّى فعليه الوفاء بما سمى".
وفي رد المحتار تحته: واعلم أن النذر قربة مشروعة، أما كونه قربة فلما يلازمه من القرب كالصلاه، والصوم، والحج، والعتق، ونحوها وأما شرعيته فللأوامر الواردة بايفائه وتمامه في الاختبار (ج:٣،ص:٧٣٦،مطلب في أحكام النذر،مط:ایچ ایم سعید کراچی)