میری والدہ نے بیس سال پہلے نیت کی تھی کہ اگران کا فلاں کام ہوگا تو وہ شکرانے کی نماز ادا کریگی زندگی بھر، الحمدللہ ان کا کام ہوگیا ہے اور وہ تب سے شکرانےکےنفل ادا کررہی ہیں،مگراب عمر کےحساب سے طبیعت صحیح نہیں ہے تو فرضیت اور سنت کے علاوہ پڑھنا مشکل ہورہا ہے، ایسے میں اگر وہ پڑھنا چھوڑدیں تو کیا کوئی کفارہ یا صدقہ دینا ہوگا یا اس نیت کو چھوڑ دینے سے گناہ ہوگا؟
سائلہ کی والدہ نے اگر نذر مانتے ہوئے یہ نیت کی ہو کہ روزانہ دو یا چار رکعت نفل نماز شکرانے کی ادا کریں گی، تو ان پر اب یہ نوافل واجب ہوگئے ہیں، جس طرح فرض نمازیں ادا کرتی ہیں ایسا ہی نذر کے نوافل ادا کیا کریں، البتہ اگرکبھی رہ جائیں تو زندگی میں اس کی قضاء ورنہ بعد از وفات اس کا فدیہ دیا جاسکتا ہے۔
كما في الهندية: وفي اليتيمة سئل الحسن بن علي -رضي الله تعالى عنه - عن الفدية عن الصلوات في مرض الموت هل يجوز فقال: لا، وسئل حمير الوبري وأبو يوسف بن محمد عن الشيخ الفاني هل تجب عليه الفدية عن الصلوات كماتجب عليه عن الصوم وهو حي فقال: لا، كذا في التتارخانية. اهـ (ج 1 ص 125)۔