ایک عورت نے منت مانی کہ اگر میرا فلاں کام ہوگیا تو میں عمرہ کرکے آؤں گی،الحمد للہ میرا کام ہوگیا ہے،اب میرے پاس ایک عورت آئی ہے اور وہ مقروض ہے،تو کیا میں عمرہ کے پیسے اس کو دے سکتی ہوں؟
مذکور عورت نے جو منت مانی ہے"کہ اگر میرا فلاں کام ہوگیا تو میں عمرہ ادا کرونگی"تو اس سے اس کی نذر منعقد ہوچکی ہے،اور اب چونکہ مذکور عورت کا وہ کام بھی پورا ہوگیا ہے،اس لئے شرط پائی جانےکی وجہ سے اس کے ذمہ عمرہ کی ادائیگی لازم ہوگی،عمرہ کے بجائے کسی غریب عورت کو عمرے کے پیسے دینے سے اس کی منت پوری نہ ہوگی۔
کمافی الفتاوى الهندية: ولو جعل عليه حجة أو عمرة أو صوما أو صلاة أو صدقة أو ما أشبه ذلك مما هو طاعة إن فعل كذا ففعل لزمه ذلك الذي جعله على نفسه ولم تجب كفارة اليمين فيه في ظاهر الرواية عندنا. (2/ 65)۔
وفی التاتارخانیۃ: إذا جعل للہ تعالی علی نفسہ حجا أو عمرۃ صوما أو صلاۃ أو ما أشبہ ذلک مما ھو طاعۃ اللہ فھذا علی وجھین واما إذا کان المنذور معلقا بالشرط،وانہ علی وجھین ایضا ،ان کان شرطا یرید وجودہ واما لجلب المنفعۃ او دفع مضرۃ بان قال ان شفی اللہ مریضی فوجد الشرط یلزمہ الوفاء مما سمی ولایخرج عن العھدۃ بالکفارۃ بلاخلاف أیضاً الخ(6/282 )۔