حضرت میں نے تقریباً ایک سال پہلے ایک معاملے میں منت مانی تھی کہ اگر یہ کام ہو جائے، تو میں اللہ کے راستے میں تبلیغی جماعت میں چار ماہ کے لئے جاؤں گا ،اگر معاشی مسئلہ کی وجہ سے یا کسی اوررکاوٹ کی وجہ سے اللہ کے راستے میں نکلنے میں ایک سال سے مجھ زیادہ ٹائم لگ جائے، تو کیا اس کے لئے کوئی کفارہ ادا کرنے سے اللہ کی نارضگی سے بچ سکتا ہوں؟
(۲) یا ہر حال میں منت کا وقت پورا ہونے پر چارہ ماہ کے لئے جانا چاہیئے۔
صحتِ نذر کے لئے یہ شرط ہے کہ منذور عبادتِ مقصودہ ہو، جبکہ تبلیغ عبادتِ مقصودہ نہیں، اس لئے یہ نذر منعقد نہیں ہوئی، لہذا سائل پر کام ہو جانے کی صورت میں جماعت میں جانا لازم نہیں ، البتہ وہ اپنی مرضی سے جانا چاہے، تو جاسکتا ہے۔
ففي الدر المختار: ومن نذر نذرا مطلقا أو معلقا بشرط وكان من جنسه واجب) أي فرض كما سيصرح به تبعا للبحر والدرر (وهو عبادة مقصودة) خرج الوضوء وتكفين الميت (ووجد الشرط) المعلق به (لزم الناذر) لحديث «من نذر وسمى فعليه الوفاء بما سمى» (كصوم وصلاة وصدقة) ( إلى قوله) (ولم يلزم) الناذر (ما ليس من جنسه فرض كعيادة مريض وتشييع جنازة ودخول مسجد) (3/ 735)۔