السلام علیکم ،پہلے سےمیری دو بیٹیاں ہیں، میری بیوی کو بیٹے کی شدید خواہش تھی، حمل ہونے سے پہلے اس نے منت مان لی تھی کہ اگر میرا بیٹا پیدا ہوا تو میں اس کا نام" محمد" رکھوں گی یہ منت اس نےیوٹیوب سے کسی اسلامی سکالر سے سن کرمانی تھی۔ اب حمل کو پانچواں مہینہ چل رہا ہے ڈاکٹر نے الٹرا ساؤنڈ کیا ہے اور بیٹا بتایا ہے الحمد للہ ،اب سب گھر والے کہتے ہیں کہ محمد نام کے ساتھ کوئی اور نام بھی ملائیں اور کہتے ہیں کہ یہ بہت ہی بابرکت نام ہے کبھی کوئی اس نام کو الٹا بول دے یا پھر بچے سے جھگڑے میں اس نام کی بے ادبی کر دے ،اس لیے ساتھ کوئی اور نام ملا لیں لیکن ہم نے منت صرف محمد نام رکھنے کی مانی تھی میں آپ سے رہنمائی چاہتا ہوں۔
برائے مہربانی مجھے بتائیں کہ میں محمد کے ساتھ کوئی اور نام ساتھ میں رکھ لوں ،ایسا کرنے سے میری بیوی کی منت مانی ہوئی میں کوئی فرق تو نہیں پڑے گا۔ میں نے یہ بھی سنا ہے کہ ایک آدمی نے اپنے بیٹے کا نام محمد رکھنے کی منت مانی تھی اور بعد میں اس نے اس بچے کا نام محمد کی بجائے افغان رکھ دیا تھا پھر وہ بچہ پاگل ہو گیا تھا۔ ویسے میرا دل بھی یہی کرتا ہے کہ میں محمد کے ساتھ کوئی اور نام بھی رکھ لوں ،بے شک ہم میاں بیوی سب اس کو گھر میں محمد کے نام سے ہی پکاریں گے، لیکن بے فارم میں اور سکول میں اس کا نام پہلے محمد ہوگا اور اس کے بعد دوسرا کوئی ساتھ لگائیں گے ،یہ نہ ہو کہ ہم محمد کے نام کے ساتھ کوئی اور لگائیں اور ہماری منت مانی ہوئی میں کوئی فرق آجائے اور پھر بچے کی زندگی میں کوئی مشکلات وغیرہ یا اللہ کی ناراضگی نہ ہو جائے، برائے مہربانی مجھے جواب ضرور دیجئے گا۔
واضح ہو کہ منت کے صحیح ہونے کے لیے جس چیز کی منت مانی جارہی ہے، اس کا عبادت مقصودہ میں سے ہونا شر عاضروری ہے، اور یہ کہ اس کی جنس سے کوئی عمل فرض یا واجب بھی ہو، لہذا مسئولہ صورت میں مذکور منت یعنی بچے کا نام "محمد" رکھنا چونکہ عبادت مقصودہ میں سے نہیں، اس لیے یہ منت شرعاً معتبر نہیں، چنانچہ بچے کی پیدائش پر مذکور بچے کے لیے محمد نام ہی کا انتخاب کرنا شرعالازم اور ضروری نہیں، بلکہ سائل کی بیوی اگر چاہے تو بچے کے نام کے ساتھ مزید بھی کوئی نام بڑھا سکتی ہے، البتہ اگر فقط " محمد " نام رکھا جائے تو اس میں بھی کوئی قباحت نہیں، بلکہ جائز اور درست ہے۔
كما في البحر الرائق شرح كنز الدقائق: وصرح في النهاية بأن النذر لا يصح إلا بشروط ثلاثة في الأصل إلا إذا قام الدليل على خلافه إحداها أن يكون الواجب من جنسه شرعا والثاني أن يكون مقصودا لا وسيلة والثالث أن لا يكون واجبا عليه في الحال أو في ثاني الحال فلذا لا يصح النذر بصلاة الظهر وغيرها من المفروضات لانعدام الشرط الثالث. اهـ. (2/ 317) والله اعلم بالصواب