السلام علیکم! میرا سوال یہ ہے کہ نماز کے فوراً بعد دعا پڑھنی چاہیئے یا نہیں، اگر امام پڑھ رہا ہو تو ہمیں اُس کے ساتھ دعا میں شامل ہونا چاہیے یا نہیں؟
فرضوں کے بعد دعا کا مانگنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، احادیثِ مبارکہ میں صراحت کے ساتھ موجود ہے، کہ آپ ﷺ فرضوں کے بعد کچھ دیر ذکر و دعا میں مشغول رہتے تھے، آپ کی یہ دعائیں بھی احادیث میں منقول ہیں، بنا بریں ائمہ اربعہ اور احناف کا مسلک یہ ہے کہ فرضوں کے بعد امام و مقتدی کا دعا مانگنا سنتِ مستحبہ ہے، تاہم جن نمازوں کے بعد سنتیں ہیں، اُن میں فقط” أللّٰهم أنْتَ السَّلَامُ الخ“ جب کہ دیگر نمازوں میں قدرے طویل دعا کی جاسکتی ہے، لیکن دعا کا یہ طریقہ درست نہیں کہ ہر نماز کے بعد امام زور زور سے طویل دعا کرائے اور مقتدی”آمین“کہیں اور اس کو ضروری قرار دیا جائے ،اور اس سلسلہ میں شرکت نہ کرنے والوں کو طعن و تشنیع کا مورد ٹھہرایا جائے، اس سے احتراز لازم ہے، وگرنہ یہ بدعت بن جائے گا۔
کما في سنن الترمذي: عن عبد الرحمن بن سابط، عن أبي أمامة قال: "قيل: يا رسول الله أي الدعاء أسمع؟ قال: جوف" الليل الآخر، ودبر الصلوات المكتوبات. هذا حديث حسن (2/ 187)