السلام علیکم! مفتی صاحب میرا نکاح 2021 میں ہوا. جس کے بعد قبل ازرخصتی کافی دفعہ ازدواجی تعلق بھی قائم ہوا۔ جولائی 2022 میں میرے شوہر نے مجھے کال پر کہا کے میں تجھے طلاق دیتا ہوں. پھر کہا کہ گھر آکر تجھے طلاق دیتا ہوں. اس ہی طرح انہوں نے 8 سے 9 دفعہ کہا اور گھر آنے پر گاڑی میں بیٹھ کر مجھے کہا کہ تو بالکل فارغ ہے، میری طرف سے بالکل فارغ ہے، تو اس صورت حال کی روشنی میں آپ مجھے واضح فرما دیں کہ اب اس رشتے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ والسلام!
صورتِ مسئولہ میں جب سائلہ کے شوہر نے رخصتی سے قبل مگر ازدواجی تعلق قائم کرنے کے بعد اسے سوال میں مذکور جملے ”میں تجھے طلاق دیتا ہوں “تین سے زائد مرتبہ دہرائے ہیں ،تو اس سے سائلہ پرتین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور بغیر حلالۂ شرعیہ کے باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا، جبکہ نکاح کے بعد رخصتی سے قبل سائلہ اور اس کے شوہر کے درمیان ازدواجی تعلق قائم ہوا ہے اس لئے سائلہ پر عدت گزارنا اور شوہر کے ذمہ مکمل حق مہر کی ادائیگی بھی لازم ہے ،اور عدت گزارنے کے بعد وہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما فی أحکام القرآن للجصاص: قال أبو بکر: قولہ تعالی: (الطلاق مرتان فإمساک بمعروف أو تسریح بإحسان)الآیۃ، یدل علی وقوع الثلاث مع کونہ منھیا عنھا الخ(ج 1، ص 386)۔
و فی الصحیح للبخاری: حدثنی محمد بن بشار قال حدثنا یحیٰ عن عبید اللہ قال حدثنا القٰسم بن محمد عن عائشۃ أن رجلا طلق إمرأتہ ثلثا فتزوجت فطلق فسئل النبی صلی اللہ علیہ و سلم أتحل للأول قال لا حتی یذوق عسیلتھا کما ذاق الأول الخ( ج 2، ص 791)۔
و فی الفتاوی الھندیۃ: و إذا قال لإمرأتہ انت طالق و طالق و طالق و لم یعلقہ بالشرط ان کانت مدخولۃ طلقت ثلاثاً الخ(ج 1، ص 355)۔
و فیھا أیضاً: و ان کان الطلاق ثلاثاً فی الحرۃ و ثنتین فی الأمۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحیحاً و یدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا کذا فی الھدایۃ الخ(ج 1، ص 473)۔
پشتو زبان میں بیوی کو "زمانہ خلاصہ دہ " یا" زمانہ پاتے دہ "کہنے سے طلاق واقع ہوگی؟
یونیکوڈ رجوع طلاق 1