کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اور مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی کام کے حاجت کے لئے یا کسی اور ایسی ضرورت کے لئے”سورۂ یٰسین“ کا (41) مرتبہ ختم کرنا اور اس کو خیر و برکت کا ذریعہ سمجھنا اور”سورۂ یٰسین“ کے ختم کے بعد اجتماعی دعا کرانا , اس کی کوئی اصل ہے شریعتِ مطہرہ میں یا نہیں ؟ اور اس کے لئے کوئی خاص وقت یا خاص دن مقرر کرنا، کیا یہ جائز ہے یا ناجائز ؟ میری رہنمائی فرمائیں۔ اللہ آپ کے علم میں برکت عطا فرمائے ۔ آمین
”سورۂ یٰسین“ کو دینی یا دنیوی کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لئے کسی خاص مقدار میں پڑھنا مشائخ اور بزرگوں سے ثابت ہے اور اِس خاص طریقہ سے پڑھنے میں مقاصد کا حصول بھی بزرگوں کے تجربہ سے ثابت ہے، لہٰذا اگر اس میں دوسرا کوئی مفسدہ نہ ہو تو اس طریقہ سے ”سورۂ یٰسین“ کا پڑھنا اور اپنی سہولت کے لئے ایک وقت کو مقرر کرنا اور ختم کے بعد اجتماعی دعا کرنا بھی درست ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں۔