السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!گزارش ہے کہ درجہ ذیل دئیے گئے سوالات کا جواب قرآن اور حدیث کی روشنی میں بتایا جائے،1۔ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِکے ساتھ کیا واقنا عذاب القبر،واقنا عذاب المرض،واقنا عذاب الحشر،واقنا عذاب القرض اور واقنا عذاب الحشر پڑھ سکتے ہیںِ؟2۔کیا دعاء گنج عرش پڑھ سکتے ہیں؟3۔ کیا دعاء جمیلہ پڑھ سکتے ہیں؟
واضح ہوکہ قرآن مجید کی آیات مبارکہ میں درج الفاظ پر کسی قسم کا اضافہ شرعاً ممنوع اور ناجائز فعل ہے، البتہ قرآن مجید میں منقول دعاؤں کو دعا کی حیثیت سے پڑھنے میں زیادہ مناسب اور بہتر صورت یہ ہے کہ قرآنی دعا جس طرح منقول ہے اسی طرح پڑھی جائے، تاہم اگر قرآنی آیتِ دعا کے ساتھ دعا کی حیثیت سے کچھ غیر قرآنی الفاظ کا اضافہ کر لیا جائے، جیسا کہ سوال میں مذکور ہے تو شرعاً اس کی گنجائش ہے، جبکہ دعائے گنج العرش مختلف آیات کریمہ اور اسمائے حسنہ پر مشتمل ہیں، اور ان میں کوئی خلاف شرع کلمہ نہیں، لہذا ان ادعیہ کا پڑھنا درست ہے، البتہ ان کے متعلق جو فضائل ان کتابوں کے شروع میں لکھے ہوئے ہیں، اور عوام میں مشہور ہیں، چونکہ یہ فضائل کسی بھی حدیث کی معتبر کتاب سے منقول نہیں ، اس لئے ان کو صحیح اور مستند سمجھنا ہرگز جائز نہیں، جس سے اجتناب لازم ہے۔لیکن دعائے جمیلہ میں کچھ الفاظ اللہ تبارک وتعالی کی شان میں مناسب نہیں، اس لئے اس سے اجتناب بہتر ہے۔
آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ایک سوال کے جواب میں لکھاہے:
سوال: میں نے اربعین نووی پڑھی جس کے صفحہ:168 پر دُعائے گنج العرش، دُرود لکھی، عہدنامہ، وغیرہ کے متعلق شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ میں چند دُعاوٴں کو آپ کی رائے شریف کی روشنی میں دیکھنا چاہتا ہوں، ان دُعاوٴں کے شروع میں جو فضیلت لکھی ہوئی ہے، اس سے آپ بخوبی واقف ہوں گے، زیادہ ہی فضیلت ہے جو تحریر نہیں کی جاسکتی، کیا یہ لوگوں نے خود تو نہیں بنائیں؟
آپ صرف یہ جواب دیں ان میں سے کون سی دُعا قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور کون سی نہیں؟ اگر ثابت ہے تو جو شروع میں فضیلتیں قرآن و حدیث سے ثابت ہیں؟ اگر نہیں تو کیا ہم کو ان دُعاوٴں کو پڑھنا چاہیے یا کہ نہیں؟ کیا یہ دُشمنانِ اسلام کی سازش تو نہیں؟
دُعائیں مندرجہ ذیل ہیں:
:-وصیت نامہ۔ ۲:- دُرود ماہی۔ ۳:- دُرود لکھی۔ :-دعائے گنج العرش۔ ۵:-دُعائے جمیلہ۔ ۶:-دُعائے عکاشہ۔:- عہدنامہ۔ ۸:- دُرود تاج۔ ۹:- دُعائے مستجاب۔
جواب: ”وصیت نامہ“ کے نام سے جو تحریر چھپتی اور تقسیم ہوتی ہے،وہ تو خالص جھوٹ ہے، اور یہ جھوٹ تقریباً ایک صدی سے برابر پھیلایا جارہا ہے، اسی طرح آج کل”معجزہ زینب علیہا السلام“ اور ”بی بی سیدہ کی کہانی“ بھی سو جھوٹ گھڑ کر پھیلائی جارہی ہے۔دیگر دُردو و دُعائیں جو آپ نے لکھی ہیں، وہ کسی حدیث میں تو وارِد نہیں، نہ ان کی کوئی فضیلت ہی احادیث میں ذکر کی گئی ہے، جو فضائل ان کے شروع میں درج کیے گئے ہیں، ان کو صحیح سمجھنا ہرگز جائز نہیں، کیوں کہ یہ خالص جھوٹ ہے، اور جھوٹی بات آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنا وبالِ عظیم ہے۔ جہاں تک الفاظ کا تعلق ہے، یہ بات تو قطعی ہے کہ یہ الفاظ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ نہیں، بلکہ کسی شخص نے محنت و ذہانت سے ان کو خود تصنیف کرلیا ہے، ان میں سے بعض الفاظ فی الجملہ صحیح ہیں، اور قرآن و حدیث کے الفاظ سے مشابہ ہیں، اور بعض الفاظ قواعدِ شرعیہ کے لحاظ سے صحیح بھی نہیں، خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات تو کیا ہوتے!یہ کہنا مشکل ہے کہ ان دُعاوٴں اور دُرود کا رواج کیسے ہوا؟ کسی سازش کے تحت یہ سب کچھ ہوا ہے یا کتابوں کے ناشروں نے مسلمانوں کی بے علمی سے فائدہ اُٹھایا ہے؟ ہمارے اکابرین ان دُعاوٴں کے بجائے قرآنِ کریم اور حدیثِ نبوی کے منقول الفاظ کو بہتر سمجھتے ہیں، اور اپنے متعلقین اور احباب کو ان چیزوں کے پڑھنے کا مشورہ دیتے ہیں (ج 3، ص 525، ط: لدھیانوی)۔
کما فی الشامیۃ تحت: (قوله: حتى لو قصد إلخ) تفريع على مضمون ما قبله من أن القرآن يخرج عن القرآنية بقصد غيره الخ(مطلب یطلق الدعاء علی ما یشتمل الثناء، ج 1، ص 172،173، ط: سعید)۔
وفی منحۃ الخالق علی حامش البحر الرائق: لأنه إذا لم يقصد القراءة فلا يتقيد بالكلمة لما تقدم أن القرآن يخرج عن القرآنية بالقصد ولم يذكر هذا الشرط في النهاية والسراج والظهيرية والذخيرة وكذا في فتح القدير ولم أر من نبه على ذلك فليتأمل الخ(باب الحیض، ج 1، ص 200، ط: رشیدیۃ)۔