گزشتہ 4 سال سے زائد میرے شوہر نےمیرا اور میرے بچوں کے ماہانہ اخراجات، کھانا پینا ،صحت اور اسی طرح مکان کا کرایہ ، تعلیمی فیس اور دیگر ضروریات کو پورا نہیں کیا ،اپنے اور بچوں کے تمام اخراجات گزشتہ 8 سال سے میں خود برداشت کر رہی تھی ،شوہر صرف گھر کا کرایہ اور گھر کے راشن کا خرچہ برداشت کر رہے تھے ،گزشتہ 4 سال پہلے میرے شوہر نے مجھے مارا پیٹا اور گھر سے نکال دیا ،چنانچہ میں اب تک اپنی والدہ کے گھر پر ہوں ،اور اپنے اور بچوں کے تمام اخراجات کو برداشت کر رہی ہوں،گزشتہ ایک سال پہلے میرے شوہر نے دوسری شادی بھی کر لی ہے،اس طویل عرصے میں انہوں نے حقِ زوجیت بھی ادا نہیں کیا ،اگر عدالت سے خلع کے لئے رجوع کروں تو علماء کرام سے سنا ہے کہ وہ شرعاً معتبر نہیں ہوتا ، میرے لئے گناہ سے بچنا اب آسان نہیں رہا ،لہذٰا میں دوسری شادی کرنا چاہتی ہوں،میرے اس مسئلے کا شرعی حل کیا ہے کہ میں کتنے سال تک انتظار کروں ؟جبکہ میرا اپنے شوہر سے کوئی رابطہ بھی نہیں ہے اور وہ مجھے دو طلاقیں بھی دے چکے ہیں ۔
نوٹ: سائلہ نے فون پر بتایا کہ میرے شوہر نے ان الفاظ کے ساتھ کہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"دو مرتبہ طلاق دی ہے۔
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو اور اس میں کسی قسم کی دھوکہ دہی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو تو سائلہ کے شوہر کا مذکور طرزِ عمل درست نہیں،جبکہ سائلہ کے شوہر نے اگر سائلہ کو واقعۃً مذکور الفاظ میں ایک ساتھ دو طلاقیں دی ہوں ،تو سائلہ پر دو رجعی طلاقیں واقع ہوچکی ہیں،جس کے بعد اگر سائلہ کے شوہر نے قولاً یا عملاً عدت میں رجوع کرلیا ہو تو ایسی صورت میں دونوں میاں بیوی کا نکاح حسبِِ سابق برقرار ہوگا،لیکن اگر شوہر نے عدت کے دوران رجوع نہ کیا ہو تو عدت گزرنے سے دونوں میاں بیوی کا نکاح بالکلیہ ختم شمار ہوگا،جس کے بعد سائلہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
کمافی صحيح البخاري: عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «الظلم ظلمات يوم القيامة»(ج3 ص129 باب الظلم ظلمات یوم القیامۃ ط: دار طوق النجاۃ)۔
وفی عمدة القاري شرح صحيح البخاري: قوله: (ولا يظلمه) ، نفي بمعنى الأمر وهو من باب التأكيد، لأن ظلم المسلم للمسلم حرام.(ج12 ص289 باب أعن أخاک ظالما أو مظلوما ط: دار إحیاء التراث العربی،بیروت)۔
وفی الفتاوى الهندية: إذا طلق الرجل امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا أو ثلاثا أو وقعت الفرقة بينهما بغير طلاق وهي حرة ممن تحيض فعدتها ثلاثة أقراء سواء كانت الحرة مسلمة أو كتابية كذا في السراج الوهاج.اھ(ج1 ص526 کتاب الطلاق،الباب الثالث عشر فی العدۃ ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا أیضاً: وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية الخ(ج1 ص470 کتاب الطلاق ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا أیضاً: (فالسني) أن يراجعها بالقول ويشهد على رجعتها شاهدين ويعلمها بذلك فإذا راجعها بالقول نحو أن يقول لها: راجعتك أو راجعت امرأتي ولم يشهد على ذلك أو أشهد ولم يعلمها بذلك فهو بدعي مخالف للسنة والرجعة صحيحة وإن راجعها بالفعل مثل أن يطأها أو يقبلها بشهوة أو ينظر إلى فرجها بشهوة فإنه يصير مراجعا عندنا إلا أنه يكره له ذلك ويستحب أن يراجعها بعد ذلك بالإشهاد كذا في الجوهرة النيرة الخ(ج1 ص468 کتاب الطلاق ط: ماجدیۃ)۔