السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ!
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ قرآن و سنت کی روشنی میں کون سے درود شریف پڑھنے ثابت ہیں؟
آنجناب سے درخواست کی جاتی ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں میری شرعی رہنمائی فرمائیں.
واضح ہو کہ احادیثِ مبارکہ میں درود شریف کے مختلف الفاظ اور صیغے منقول ہیں ، جن کا یہاں پر احاطہ کرنا مشکل ہے ، البتہ حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی قدس اللہ سرہ نے اپنے ایک رسالہ ”زاد السعید“ میں درود شریف کے تقریباً تمام وہ الفاظ اور صیغے نقل فرمائے ہیں ، جو مختلف روایات سے ثابت ہیں، اسی طرح شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ کی کتاب ”فضائل درود شریف“ میں بھی مختلف الفاظ اور صیغے منقول ہیں ، لہذا ان دونوں کتب کا مطالعہ مفید رہے گا۔
تاہم سب سے افضل درود شریف وہی ہے جو ہم نماز کے آخری قعدہ میں پڑھتے ہیں، یعنی درودِ ابراہیمی ، لہذا درودِ ابراہیمی کا اہتمام کرنا چاہیئے۔