اسلام علیکم ! اہلِ حدیث کے مولانا کہتے ہیں ، کہ دیوبند کے لوگ شرک کرتے ہیں، دیوبند کے لوگ دعامانگتے ہیں، تو کہتے ہیں، کہ اے اللہ نبی کے صدقے ہماری دعا قبول فرما۔
اہلِ سنت والجماعۃ علمائے دیوبند کےنزدیک انبیاء، اولیاء یا نیک اعمال کے توسل سے دعا کرنا جائز بلکہ اجابتِ دعا میں موٴثر ہے، اور اس کا ثبوت متعدد احادیثِ مبارکہ میں ملتا ہے۔
حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سرکاردو عالم ﷺ کی بارگاہ میں ایک شخص ضریرالبصر(جسکی بصارت جا چکی تھی) آیا اور عرض کیا کہ اللہ پاک سے میری تکلیف دور کرنے کے لۓ دعا فرمائیں ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایااگر تو چاہے تو میں تیرے لۓ دعاکردوں اور اگر تو اس پر صبر کرنا چاہے تو تیرے لۓ زیادہ بھلائی ہے، اس نے کہا دعا فرمادیجۓ ، پس آپ ﷺ نے اسے حکم فرمایا کہ اچھی طرح وضوکرو اور دو رکعت نماز ادا کرو اور پھر یہ دعا مانگو، اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں بوسیلہ محمد نبی رحمت ﷺ کے،اے محمد :میں آپ کے وسیلہ جلیلہ سے اپنے رب کے حضور متوجہ ہوتا ہوں ، اے اللہ پس تو آپ ﷺ کے وسیلہ سے میری حاجت سے مجھے نواز دے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت میرے حق میں قبول کیجیۓ۔(چنانچہ نابینا کھڑا ہوگیا اور بینا ہوگیا)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ جب قحط ہوتا تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے توسل سے دعا مانگتے او رکہتے اللہم انا نتوسل إلیک بعمّ نبیّنا فاسقنا فیسقون (بخاری شریف: ۵۲۶۱) اے اللہ ہم آپ کے نبی کو وسیلہ بنایا کرتے تھے اوران کا واسطہ دے کر تجھ سے دعا کیا کرتے تھے، پس آپ بارش برسا دیا کرتے تھے، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے وسیلہ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں سیراب کردیجیے نتیجۃً یہ ہوتا کہ بارش ہوجاتی تھی، تاہم توسل کے ساتھ دعا کرنا لازم وضروری نہیں ہے،بلکہ اس کے بغیر بھی دعا کرسکتے ہیں۔
عن عثمان بن حنیف، أن رجلا ضریر البصر أتی النبي صلی اللہ علیہ وسلم فقال: ادع اللہ أن یعافیني قال: إن شئت دعوت، وإن شئت صبرت فھو خیر لک․ قال: فادعہ، قال: فأمرہ أن یتوضأ فیحسن وضوئہ ویدعو بھذا الدعاء: اللھم إني أسألک وأتوجہ إلیک بنبیک محمد نبي الرحمة، إني توجھت بک إلی ربي في حاجتي ھذہ لتقضی لی، اللھم فشفعہ فی : قال الترمذي: ھذا حدیث حسن صحیح غریب وزاد الحاکم في ہذہ الواقعة ”فدعا بہذا الدعاء فقام وقد أبصر“ (۱/۳۱۳، ۵۱۹، ۵۲۶)۔
و فی صحیح البخاری: عن أنس بن مالك، أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه، كان إذا قحطوا استسقى بالعباس بن عبد المطلب، فقال: «اللهم إنا كنا نتوسل إليك بنبينا فتسقينا، وإنا نتوسل إليك بعم نبينا فاسقنا»، قال: فيسقون اھ(27/2، رقم الحدیث: 5261، ط: دار طوق النجاۃ)۔