کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بعض لوگوں کے ہاں یہ رواج ہے کہ فرائض کے بعد امام صاحب مختصر دُعا کرواتے ہیں، اس کے بعد سب لوگ سنتیں اور نوافل پڑھنے میں مشغول ہو جاتے ہیں، سنتوں وغیرہ سے فارغ ہونے کے بعد اجتماعی دعا ہوتی ہے، جس میں امام صاحب بلند آواز سے دُعا کرواتے ہیں اور باقی لوگ ’’آمین‘‘ کہتے ہیں کوئی آدمی اگر جلدی سنتوں سے فارغ ہو جائے تو وہ بھی دُعا کے انتظار میں بیٹھا رہتا ہے، اور یہ دُعا باقاعدہ اہتمام کے ساتھ کی جاتی ہے۔
دریافت طلب اَمر یہ ہے کہ اس اجتماعی دُعا کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ براہِ کرم قرآن وسنت اور فقہ حنفی کی روشنی میں تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔
سنن ونوافل سے فراغت پر باقاعدہ اہتمام والتزام کے ساتھ بہ ہیئتِ اجتماعیہ دعا کرنا قرونِ ثلاثہ مشہود لہا بالخیر سے ثابت نہیں، اگرچہ اس موقع پر دعا فی نفسہٖ جائز اور درست ہے، مگر اس کو ثابت سمجھ کر بہ ہیئتِ اجتماعیہ اس کا اہتمام والتزام ایسے امور ہیں جن کی وجہ سے ایک جائز، بلکہ مستحب امر بھی مکروہ وممنوع بن جاتا ہے، اس لۓ مذکور موقع پر اہتمام والتزام کے ساتھ دعا کرنے سے احتراز چاہیۓ۔
فی صحيح مسلم: عن عبد الله بن شقيق، قال: سألت عائشة عن صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم، عن تطوعه؟ فقالت: «كان يصلي في بيتي قبل الظهر أربعا، ثم يخرج فيصلي بالناس، ثم يدخل فيصلي ركعتين، وكان يصلي بالناس المغرب، ثم يدخل فيصلي ركعتين، ويصلي بالناس العشاء، ويدخل بيتي فيصلي ركعتين، وكان يصلي من الليل تسع ركعات فيهن الوتر، وكان يصلي ليلا طويلا قائما، وليلا طويلا قاعدا، وكان إذا قرأ وهو قائم ركع وسجد وهو قائم، وإذا قرأ قاعدا ركع وسجد وهو قاعد، وكان إذا طلع الفجر صلى ركعتين» اھ(1/ 504)۔
وفی صحيح البخاري: عن زيد بن ثابت: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: (إلی قوله) «صلوا أيها الناس في بيوتكم، فإن أفضل الصلاة صلاة المرء في بيته إلا المكتوبة» اھ (1/ 147)۔