کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کہ ہم لوگ نماز میں جو ’’التحیات ‘‘پڑھتے ہیں اس میں ’’السلام علیک ایھا النبی الخ ‘‘پڑھتے ہیں جو کہ بریلوی کے ’’الصلاۃ علیک یا رسول اللہ ‘‘کے مشابہ ہے ، ہم نے ایک عالم سے سنا ہے کہ صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں خطاب کے صیغہ کے ساتھ پڑھتے تھےاور بعدِ وفات النبی صلی الہ علیہ و سلم خطاب کا صیغہ ترک کر کے ’’السلام علی النبی و رحمۃ اللہ و برکاتہ‘‘ پڑھتے تھے ، کیا یہ بات صحیح ہے؟ تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔
تشہد میں مذکور سلام بصیغۂ خطاب و غائب دونوں طرح ثابت اور جائز ہے، جبکہ خطاب کے صیغہ کےساتھ پڑھنا مشابہ بحکایت ِخداوندی ہے اور حکایت بطورِ دعا و انشاء کے زیادہ بہتر ہے۔
اور اگر فسادِ عقیدہ کا اندیشہ ہو تو بصیغہ غائب پڑھنا چاہیے ، تاہم یہ کہنا کہ بصیغہ خطاب بریلوی کے الفاظ سلام کے مشابہ ہے کچھ معنی نہیں رکھتا ، اس لیے کہ ثبوتِ شرک و کفر کے لیے مشابہتِ مشرک شرط نہیں، بلکہ عقیدۂ فاسد ہ کا وجود ہی کافی ہوتا ہے ، لہٰذا بلاوجہ عوام میں انتشار پھیلانے سے احتراز چاہیے۔
فی صحیح البخاری :حدثنا أبو نعيم حدثنا سيف قال سمعت مجاهدا يقول حدثني عبد الله بن سخبرة أبو معمر قال سمعت ابن مسعود يقول علمني رسول الله وكفي بين كفيه التشهد كما يعلمني السورة من القرآن التحيات لله و الصلوات و الطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله و بركاته السلام علينا و على عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله و أشهد أن محمدا عبده و رسوله و هو بين ظهرانينا فلما قبض قلنا السلام يعني على النبي اھ( 2/926)۔
و فی فتح الباری : قال السبكي في شرح المنهاج بعد أن ذكر هذه الرواية من عند أبي عوانة وحده إن صح هذا عن الصحابة دل على أن الخطاب في السلام بعد النبي صلى الله عليه و سلم غير واجب فيقال السلام على النبي قلت قد صح بلا ريب و قد وجدت له متابعا قويا اھ(2/314)۔
و فی المرقاة المفاتيح : و به یظھر وجه الخطاب و أنه علی حکاية معراج-صلی اللہ علیه و سلم- فی آخر الصلوة التی ھی معراج النبی اھ(2/629)۔
و فی الدر المختار : (و يقصد بألفاظ التشهد) معانيها مرادة له على وجه (الإنشاء) كأنه يحيي الله تعالى و يسلم على نبيه و على نفسه و أوليائه (لا الإخبار) عن ذلك اه(1/510)۔