السلام علیکم!
میں ڈگری کا طالب علم ہوں، جب بھی پڑھنا شروع کرتا ہوں تو میرے ذہن میں ایک خیال آتا ہے کہ تم کیوں پڑھ رہے ہو ؟ تمہیں اللہ پر بھروسہ کیوں نہیں ہے ؟ وہ آپ کو عزت دے گا، چاہے آپ پڑھائی نہ کریں اور کہیں کام پر جائیں۔ اللہ آپ کو عزت دے گا، اگر آپ مزدور کی طرح کام بھی کریں گے تو اس سوچ سے جان چھڑائیں گے میرے بھائی انجینئر اور ڈاکٹر ہیں، پتہ نہیں کیا کروں؟ برائے مہربانی مجھے تسلی بخش جواب دیں۔ جزاک اللہ خیرا ۔
واضح ہو کہ تمام امور دنیویہ و دینیہ میں اللہ تبارک و تعالی کے متصرف حقیقی ہونے کا اعتقاد رکھنا اور اپنے آپ کو اس کا محتاج سمجھنا۔ اسی طرح اس کی ذات پر توکل ( بھروسہ) کرنا ہر مسلمان پر فرض اور اس کے ایمان کا جزو لازم ہے، لیکن وہ امور دنیو یہ جنہیں پورا کرنے کے لیے اسباب اختیار کرنا ضروری اور یقینی امر ہے ، ایسے امور دنیویہ میں اسباب کو ترک کرنا جائز نہیں ، بلکہ اسباب اختیار کرنا واجب ہے ، لہذا سائل کو چاہیے کہ تمام امور بشمول اپنی پڑھائی کے مؤثر حقیقی اللہ تبارک و تعالی کی ذات کو سمجھتے ہوئے اسی پر توکل کرے، مگر اسباب اختیار کرنا ہر گز نہ چھوڑے، کیونکہ اسباب اختیار کرنا تو کل علی اللہ کے منافی نہیں ہے۔ بلکہ سنت انبیاء ہے۔
حیض کےایّامِ عادت سے ایک دن پہلے اور بعد خون آنے کی صورت میں درمیانی ایّام میں نماز وغیرہ کا حکم
یونیکوڈ تقدیر 0