میرا سوال ایک حدیث سے متعلق ہے، حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: سب کچھ تقدیر میں لکھا جا چکا ہے یہاں تک کہ انسان کا نا سمجھ اور ناکارہ ہونا، ہوشیار اور قابل ہونا بھی،تقدیر سے ہی ہے، صحیح مسلم ، حدیث نمبر675
میرا سوال یہ ہے کہ میں ہر کام کے لیے ناکارہ ہوں میرے والدین دوست احباب رشتہ دار سب یہی کہتے اورمانتے ہیں، حضرت کیا کوئی طریقہ ایسا نہیں کہ بس ہوشیار ہو جاؤں؟ کوئی بھی طریقہ ہو عمل ہو ذکر ہو تدبیریں ہو وغیرہ یا پھر کتنی بھی کوشش کے بعد بھی ناکارہ رہوں گا؟
واضح ہو کہ کسی شخص کا عقلمند وچالاک ہونا یا بیوقوف اور کندذہن ہونا وغیرہ سب اللہ رب العزت کی طرف سے پہلے سے طے شدہ ہے اور اس پر راضی رہنا بھی ایمان کا حصہ ہے، لیکن زیادہ عقلمند ہونا یا مالدار ہونا یااونچے نسب والا ہونا وغیرہ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ کوئی کامیابی اور عزت کی بات نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں عزت والا تو وہ شخص ہے، جو زیادہ تقویٰ اختیار کرنے والا ہو، چنانچہ قرآن مجید میں اللہ رب العزت کا پاک ارشاد ہے کہ:
﴿اِنَّ اَکْرَ مَکُمْ عِنْدَاللہِ اَتْقَاکُمْ﴾
اللہ کے نزدیک تم سب میں زیادہ معزز وہ شخص ہے جو زیادہ تقویٰ والا ہو۔
لہٰذا اس بارے میں زیادہ فکر مند ہونے کی کوئی ضرورت نہیں، تاہم کوئی بھی اہم کام شروع کرنا ہو تو اپنے بڑوں سے اور اس شعبہ کے ماہرین سے لازمی اس بارے میں مشورہ کر لینا چاہیے اور ساتھ ساتھ استخارہ بھی کر لیناسنت عمل ہے، استخارہ اور مشورہ کے بعد جو کام کیا جائےگا، انشاءاللہ تعالیٰ اس میں اللہ رب العزت کی طرف سے خیروبرکت ہوگی۔
ففی القرآن المجید: ﴿وَشَاوِرْہُمْ فِی الْاَمْرِ فِاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیْنَ﴾. (آل عمران: ۱۵۹)
وفی المعجم الصغیر: عن أنس بن مالک قال قال رسول اللہﷺ: ما خاب من استخار وماندم من استشار ولا عال من اقتصد (۲/ ۱۷۵)
وفی مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح: ثم المستحب دعاء الاستخارۃ بعد تحقق المشاورۃ فی الأمر المھم من الأمور الدینیۃ والدنیویۃ وأقلۃ أن یقول اللہم خرلی واختر لی ولا تکلنی إلی اختیاری۔۔۔۔ (۱۵/ ۲۳۳) واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
حیض کےایّامِ عادت سے ایک دن پہلے اور بعد خون آنے کی صورت میں درمیانی ایّام میں نماز وغیرہ کا حکم
یونیکوڈ تقدیر 0