تقدیر

خواب کی حقیقت-خواب سے باہر کی دنیا اور دیکھے ہوۓخواب کا تعلق-تقدیر

فتوی نمبر :
60536
| تاریخ :
2003-09-17
عقائد / ایمان و کفر / تقدیر

خواب کی حقیقت-خواب سے باہر کی دنیا اور دیکھے ہوۓخواب کا تعلق-تقدیر

میرا نام "سومیہ" اور عمر سترہ سال ہے ، میں انٹرنیٹ پر اسلام کی تعلیم کے لیے عام طور پر جاتی رہی ہوں ، حال ہی میں ، میں نے خواب کے بارے میں معلوم کیا ، کیا وہ تصورّات جو ہم خواب کی شکل میں دیکھتے ہیں وہ ہماری زندگی کو متاثر کرتے ہیں، کیونکہ نفسیات دان کہتے ہیں کہ خواب ہماری خواہشات کا اظہار ہیں ، مثلاً میں نے کعبہ شریف دیکھا کئی دفعہ اپنے خواب میں پچھلے سال ، لیکن مجھے وہاں جانے کا موقع کبھی نہیں مل سکا ، حال ہی میں میں نے خواب میں اپنے تعاقب میں ایک شخص کو دیکھا اور پھر ایک شریف اور نیک آدمی نے ، جسکے چہرے پر روشنی تھی اور سفید لباس میں تھا ، مجھے اس سے بچایا اور اپنے ساتھ لے گیا ، میرے ہتھیلیاں تعاقب کرنےوالے نےزخمی کر دی تھیں، کبھی میں اپنے آپ کو خواب میں آئینہ میں دیکھتا ہوا محسوس کرتی ہوں، کبھی زیور (جیولری) پہنے دیکھتی ہوں بازو اور پیروں میں ، جب کہ میں ان سب کی خواہش نہیں کرتی ، کبھی اوپر چڑھتے اور کبھی نیچے اترتے ہوئے دیکھتی ہوں ، کچھ سال پہلے میں خواب میں اپنے آپ کو ایک خیمہ میں بیٹھے ہوئے دیکھتی ہوں، لیکن یہ سب خواب میری زندگی میں کوئی اثر نہیں رکھتے تو ان کا ذکر اسلام میں کیوں ہے؟
دوسری بات اگر اللہ ہی سب کچھ کرتا ہے اور ہر چیز کا فیصلہ ہوا ہے تو پھر ہم اپنی خواہشات کے لیے دعا ئیں کیوں کرتے ہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

خواب دیکھنے سے یہ مقصود نہیں کہ جو حالت یا کیفیت خواب میں نظر آئے وہی بیداری میں بھی وجود میں آجائے، بلکہ خوابوں میں جو اچھے خواب ہوتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت ہوتی ہے، تاکہ بندہ اپنے مولیٰ کریم کے ساتھ حسنِ ظن میں راسخ الاعتقاد ہو جائے اوریہ بشارت مزید شکر و امتنان کا باعث ہو ، اور مکروہ خواب شیطانی القاء سے ہوتا ہے ، اس القاء سے شیطان کی غرض مومن کو غمگین اور محزون کرنا ہوتا ہے۔
دوسری بات مسئلہ تقدیر سے متعلق ہے اور شریعتِ مطہرہ نے اس میں بحث و مباحثہ کرنے سے منع فرمایا ہے ، لہٰذا اس مسئلہ میں غور و خوض اور بحث و تکرار سے احتراز چاہیے۔
تاہم واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اچھے اور برے اعمال اپنانے کا اختیار دےکر ان میں سے کسی راستہ کے اختیار کرنے پر انجام کا ر بھی متعین فرما دیا ہے ، یہی وجہ ہے کہ عند الجمہور بندہ اپنے افعال کا نہ تو خالق ہے نہ ہی مجبورِ محض، بلکہ وہ کاسب کہلاتا ہے ، اُسے اعمال ِخیر کے اختیار کرنے پر اجر و ثواب کا وعدہ دےکر ترغیب دی گئی ہے اور اعمالِ بد پر عذاب اورمصائب و تکالیف کی وعیدیں سنا کر ان سے منع کیا گیا ہے ، جیسا کہ درج ذیل حدیثِ مبارک کے ترجمہ سے بھی بخوبی اس کا علم ہو رہا ہے:
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرمایا: تم میں سے ہر ایک کا ٹھکانا دوزخ کا اور جنت کا لکھا جا چکا ہے ، صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کیا ، تو کیا ہم اپنے اس نوشتۂ تقدیر پر بھروسہ کر کے نہ بیٹھ جائیں اور سعی و عمل چھوڑدیں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا نہیں: عمل کیے جاؤ، کیونکہ ہر ایک کو اُسی کی توفیق ملتی ہے جس کے لیے وہ پیدا ہوا ہےپس جو کوئی نیک بختوں میں سے ہے اسے نیک بختوں کے والے اعمالِ خیر کی اور جو بد بختوں میں سے ہے اُس کو شقاوت اور بدبختی والے اعمالِ بد ہی کی توفیق ملتی ہے ، پھر نبی کریم ﷺ نے یہ آیت پڑھی: ﴿فأما من أعطی و اتقی و صدق بالحسنی﴾
لہٰذا سائلہ کو چاہیے کہ اعمالِ خیر اختیار کرنے اور برے اعمال سے بچنے کا اہتمام کرے۔ و اللہ اعلم بالصواب!

مأخَذُ الفَتوی

ففی صحیح البخاری: عن أبي سعيد الخدري أنه سمع رسول الله يقول إذا رأى أحدكم الرؤيا يحبها فإنها من الله فليحمد الله عليها و ليحدث بها و إذا رأى غير ذلك مما يكره فإنما هي من الشيطان فليستعذ من شرها و لا يذكرها لأحد فإنها لن تضره (لا تضره) اھ (۲/ ۱۰۳۴)۔
و فی سنن الترمذی: عن أبي هريرة قال : خرج علينا رسول الله -صلى الله عليه و سلم- و نحن نتنازع في القدر فغضب حتى أحمر وجهه حتى كأنما فقئ في وجنتيه الرمان فقال أبهذا أمرتم أم بهذا أرسلت إليكم ؟ إنما هلك من كان قبلكم حين تنازعوا في هذا الأمر عزمت عليكم عزمت عليكم ألا تتنازعوا فيه اھ (۱/ ۲۲)۔
و فی مشکاة المصابیح: عن علي - رضي الله عنه - قال رسول اللہ - صلی اللہ علیه و سلم - ما منكم من أحد إلا و قد كتب مقعده من النار أو من الجنة قالوا يا رسول الله أفلا نتكل علی کتابنا و ندع العمل قال اعملوا فكل ميسر لما خلق له اما من کان من اھل السعادۃ فسنیسر لعمل السعادة و أمامن کان من اھل الشقاوة فسیسر لعمل الشقاوة ثم قرء﴿فأما من أعطى واتقى وصدق بالحسنى﴾ الآية ، متفق علیه اھ( ۱/ ۲۰)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60536کی تصدیق کریں
0     466
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • شادی اور رزق کا فیصلہ جب ازل میں ہوچکا تو نماز، دعا اور شکر سے اس میں تبدیلی کیسے ممکن ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   تقدیر 0
  • کیا سب کچھ تقدیر میں لکھا جا چکا ہے

    یونیکوڈ   اسکین   تقدیر 0
  • نورانی قاعدہ اور نماز کی کتاب کو ایامِ حیض میں چھوُنا

    یونیکوڈ   تقدیر 0
  • انسانوں کی تقدیر کا فیصلہ ’’شبِ قدر‘‘ کو ہوتا ہے یا شبِ برأت کو؟

    یونیکوڈ   تقدیر 1
  • اگر گناہ اللہ کی مرضی سے ہوتے ہیں تو ان پر سزا کیوں؟

    یونیکوڈ   تقدیر 0
  • خواب کی حقیقت-خواب سے باہر کی دنیا اور دیکھے ہوۓخواب کا تعلق-تقدیر

    یونیکوڈ   تقدیر 0
  • جب سب کچھ اللہ حکم سے ہوتا ہے تو اعمال پر جزا وسزا کیوں؟

    یونیکوڈ   تقدیر 0
  • تقدیر میں لکھی ہوئی کون سی چیزیں بدلی جا سکتی ہیں اور کون سی نہیں؟

    یونیکوڈ   تقدیر 0
  • اللہ شروع سے کیسے ہیں؟

    یونیکوڈ   تقدیر 0
  • انسان اپنے اعمال میں کتنا خود مختار ہے؟

    یونیکوڈ   تقدیر 0
  • جب ہر کام اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے تو گناہوں پر سزائیں کیوں دی جاتی ہیں؟

    یونیکوڈ   تقدیر 0
  • حیض کےایّامِ عادت سے ایک دن پہلے اور بعد خون آنے کی صورت میں درمیانی ایّام میں نماز وغیرہ کا حکم

    یونیکوڈ   تقدیر 0
  • دعا، صدقہ، خیرات، عبادات اور محنت سے تقدیر بدل سکتی ہے یا نہیں؟

    یونیکوڈ   تقدیر 0
  • تقدیر کے متعلق سوال

    یونیکوڈ   تقدیر 0
  • کیا تقدیر کے لکھے ہونےسے کوئی شخص مجبور ہو جاتا ہے؟

    یونیکوڈ   تقدیر 0
  • اللہ تعالی کی ذات عالی کے بارے میں کلام کرنا

    یونیکوڈ   تقدیر 0
  • ’’دنیا مقدر میں ہے اور دین مقدر میں نہیں ہے‘‘جملہ کہناکیساہے؟

    یونیکوڈ   تقدیر 0
  • معمولات مکمل ہونے کے باوجود گناہ میں مبتلا ہونا

    یونیکوڈ   تقدیر 0
  • صحت کی وجہ سے عمر میں اضافہ اور تقدیر کی حیثیت

    یونیکوڈ   تقدیر 0
Related Topics متعلقه موضوعات