ہمارا عقیدہ ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے کرنے سے ہوتا ہے، وہ ہمارے تقدیر کو جانتا ہے اور جو کچھ ہم زندگی میں کریں گے ہم اس کی چاہت کے بغیر کچھ نہیں کرسکتے، پھر اس عقیدہ کی وجہ سے ہم اپنے اعمال کے ذمہ دار کیوں ہیں اور اس اعمال کی وجہ سے ہم جنت اور جہنم میں کیوں داخل ہوجاتے ہیں؟
تقدیر اللہ تعالیٰ کے علم اور اندازہ کا نام ہے جو اللہ نے انسان کی تخلیق سے پہلے لکھ دیا ہے کہ یہ انسان اپنے اختیار سے ہر کام کرے گا اور چونکہ اللہ کا علم یقینی ہے اس لیے اس کے خلاف نہیں ہوتا، مگر اس علم اور اندازہ کی وجہ سے آدمی مجبور نہیں ہوتا، کیونکہ اللہ نے ہر انسان کو اختیار دیا ہے کہ وہ اپنے اختیار سے اس کام کو کرے، اس لیے اپنے اختیار صحیح یا غلط استعمال کی بناء پر وہ جنت یا جہنم کا مستحق ہوتا ہے۔
وفی شرح العقائد النسفية: انه تعالیٰ اراد منهما الکفر والفسق باختیارهما فلا جبر (الی قوله) ان ارادۃ القبیح قبیحة کخلقه وایجادہ ونحن نمنع ذلك بل القبیح کسب القبیح والاتصاف به (الی قوله) وللعباد افعال اختیارية یثابون بها ان کان طاعة ویعاقبون علیها ان کانت معصية لا کما زعمت الجبرية۔ الخ (ص81، 82) واللہ اعلم بالصواب!
حیض کےایّامِ عادت سے ایک دن پہلے اور بعد خون آنے کی صورت میں درمیانی ایّام میں نماز وغیرہ کا حکم
یونیکوڈ تقدیر 0