کیا فرماتے ہیں علماءِکرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہر کام اللہ کی قدرت سے ہوتا ہے ،گناہوں کی پھر سزا کیوں ہے؟
سوال: قرآن کہتا ہے کہ اللہ جو چاہتا ہے سو کرتا ہے اور اس کی مرضی کے بغیر ایک پتہ بھی نہیں ہل سکتا تو پھر ایک شخص کو قتل کے جرم میں موت کی سزا کیوں سنائی جاتی ہے؟ چور کیلۓ اسلام میں ہاتھ کاٹنے کی سزا کیوں ہے؟ وضاحت کریں ۔
تقدیر برحق ہے اور اس کو ماننا شرطِ ایمان ہے ،لیکن تقدیر کا مسئلہ بے حد نازک اور باریک ہے، کیونکہ تقدیر اللہ تعالی کی صفت ہے اور آدمی صفاتِ الٰہیہ کا پورا احاطہ نہیں کر سکتا ،بس اتنا عقیدہ رکھاجائے کہ دنیا میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے، اللہ تعالیٰ کو پہلے سے اس کا علم تھا اور اللہ تعالی ٰ نے اسکو پہلے سے لوح محفوظ میں لکھ رکھا تھا ،پھر دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اس کی دو قسمیں ہیں ، بعض میں انسان کے ارادہ و اختیار کا بھی دخل ہے، جیسا کہ سوال میں مذکور امور ، مثلاً :قتل اور چوری وغیرہ اور بعض میں نہیں ، جن کاموں کو کرنے کا حکم ہے ،اگرانہیں اپنے ارادہ و اختیار سے ترک کریگا تو اس پر مؤاخذہ ہوگا اور جن کاموں کو چھوڑنے کا حکم ہے انکو اپنے ارادہ و اختیار سے چھوڑنا ضروری ہے، نہیں چھوڑےگا تو مواخذہ ہوگا، الغرض جو کچھ ہوتا ہے تقدیر کے مطابق ہی ہوتا ہے، لیکن اختیاری امور پر چونکہ انسان کے ارادہ و اختیار کو بھی دخل ہے، اس لۓ نیک و بد اعمال پر جزا و سزا ہوگی ،ہمارے لۓ اس سے زیادہ اس مسئلہ پر کھود کر ید کرنا جائز نہیں ،نہ اس کا کوئی فائدہ ہے ۔
فی مرقاة المفاتیح : و عن أبي هريرة -رضي الله عنه-: قال: «خرج علينا رسول الله - صلى الله عليه وسلم - و نحن نتنازع في القدر ، فغضب حتى احمر وجهه، حتى كأنما فقئ في وجنتيه حب الرمان ، فقال: (أبهذا أمرتم؟ أم بهذا أرسلت إليكم؟ إنما هلك من كان قبلكم حين تنازعوا في هذا الأمر ، عزمت عليكم ، عزمت عليكم ألا تنازعوا فيه» ) . رواه الترمذي اھ و قال المصنف رحمه اللہ تحت قوله : (عزمت) أي : أقسمت أو أوجبت (عليكم) قيل : أصله عزمت بإلقاء اليمين ، و إلزامها عليكم ( «عزمت عليكم أن لا تنازعوا» ) : بحذف إحدى التاءين (فيه) : و لا تبحثوا في القدر بعد هذا،اھ(1/175)۔
و في أصول الدين : اعلم أن المذهب المستقيم أن تقدير الخير و الشر من الله تعالى و فعل الخير و الشر من العبد و العبد مختار في فعله اختيار تمييز و تحصيل لا اختيار مشيئة و قدرة و العبد مخاطب بمراعاة الأمر و النهي و بالنظر إلى القضاء و القدر فيحصل له الخوف و الرجاء و الاجتهاد و الرغبة و هو غير مسؤول في جانب القضاء و القدر ليثاب و يعاقب بل هو مسؤول في جانب الأمر و النهي للثواب و العقاب و ليس للعبد أن يقول عاذرا لنفسه بأن القضاء و القدر هكذا أجري علي فما ذنبي بل العبد ملزم(الي قوله) فإن الله تعالى أخفى علم القدر عن عباده و نهاهم عن مرامه و منعهم عن الاعتراض فيه و السؤال عنه كما قال تعالى لا يسئل عما يفعل و هم يسئلون و قال لما خلق الله الخلق جعل طباعهم في النهي متحركة و في الأمر ساكنة و أمرهم أن يسكنوا على المتحرك و ان يتحركوا بالساكن و لا تجدوا إلى ذلك سبيلا إلا بحول الله و قوته اھ(ص: 189)۔
حیض کےایّامِ عادت سے ایک دن پہلے اور بعد خون آنے کی صورت میں درمیانی ایّام میں نماز وغیرہ کا حکم
یونیکوڈ تقدیر 0