میں کہتا ہوں کہ دنیا مقدر میں ہے اور دین مقدر میں نہیں ہے،اس لئے دین کے لئے کوشش کرنی ہوگی،کیا ایسا کہنا صحیح ہے؟
سوال میں مذکور جملہ " دنیا مقدر میں ہے اور دین مقدر میں نہیں ہے" سے اگر سائل کی مراد یہ ہو کہ اللہ رب العزت نے ہر بندہ کے حصہ میں رزق کا جو حصہ متعین فرمایا ہے وہ ضرور اسے مل کر رہے گا اور دین کے اعمال کی کوئی حد نہیں بلکہ جتنا انسان چاہے اپنے اعمال نیک میں اضافہ کر سکتا ہے تو یہ کہنا صحیح ہے،البتہ شرعی حدود میں رہ کر بلا تفریق دونوں کے لئے کوشش ضروری ہے۔
قال اللہ تعالی: {أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِيَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِيًّا وَرَحْمَتُ رَبِّكَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ (32)} [الزخرف: 32]
و قال اللہ تعالی: { وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى (39) وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَى (40) ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَاءَ الْأَوْفَى (41)} [النجم: 39 - 41]
حیض کےایّامِ عادت سے ایک دن پہلے اور بعد خون آنے کی صورت میں درمیانی ایّام میں نماز وغیرہ کا حکم
یونیکوڈ تقدیر 0