کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ’’نورانی قاعدہ‘‘ اور نماز کی کتاب جس کے اختتام پر قرآنی سورتیں درج ہوتی ہیں، ان کو ایام حیض میں چھوُنا کیسا ہے؟
اگر قرآنی سورتیں دوسری عبارتوں سے کم ہوں تو اس کتاب وغیرہ کو چھونا جائز ہے، البتہ جس صفحہ پر قرآنی آیات درج ہوں، ان کو ہاتھ لگانے سے احتراز کرے۔
و فی الدر المختار: (و) يمنع حل (دخول مسجد و) حل (الطواف) ولو بعد دخولها المسجد وشروعها فيه (وقربان ما تحت إزار) (وقراءة قرآن) بقصده (ومسه) (1/ 291)-
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله ومسه) أي القرآن ولو في لوح أو درهم أو حائط، لكن لا يمنع إلا من مس المكتوب اھ(1/293)۔
حیض کےایّامِ عادت سے ایک دن پہلے اور بعد خون آنے کی صورت میں درمیانی ایّام میں نماز وغیرہ کا حکم
یونیکوڈ تقدیر 0