السلام علیکم! میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ انسانوں کی تقدیر کا فیصلہ ’’شب قدر‘‘ کو ہوتا ہے یا شبِ برأت کو؟ کیونکہ ایک شخص مجھ سے کہہ رہے تھے کہ یہ فیصلہ شبِ قدر کو ہوتا ہے، جبکہ ہمیں تو یہ پتہ تھا کہ تقدیروں کے فیصلے (جو انسانوں کے ساتھ پورے ایک سال میں ہونے والا ہوتا ہے رزق وغیرہ کا) صرف شبِ برأت میں ہوتے ہیں، ان دونوں میں فرق بھی بتادیجیے۔
شبِ قدر رمضان المبارک کے اخیر عشرہ کی کسی طاق رات کو کہتے ہیں، اس میں نزولِ قرآن تو نصوصِ قطعیہ سے ثابت ہے، مثلاً: ﴿إنا أنزلنٰه فی لیلة القدر﴾ (سورة القدر: ۱) اور ﴿شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن﴾ (سورة البقرة: ۱۸۵) وغیرہ اور جہاں تک تقادیر کے فیصلوں کا تعلق ہے تو اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ سورۃ الدخان میں ﴿إنا انزلنا فی لیلة مبٰركة إنا کنا منذرین﴾ میں ’’لیلہ مبارکہ‘‘ سے مراد کون سی رات ہے؟ کیونکہ اسی رات کے متعلق آگے ارشاد فرمایا ہے ﴿فیها یفرق کل امر حکیم امرا من عندنا﴾ یعنی اس رات میں ہر حکمت والے معاملہ کا فیصلہ ہماری طرف سے کیا جاتا ہےو چنانچہ اولاً تو رئیس المفسرین حضرت ابنِ عباسؓ اور قتادہ، مجاہد، حسنؒ الغرض جمہور مفسرین کی رائے یہ ہے کہ ’’لیلہ مبارکہ‘‘ جس میں نزولِ قرآن ہوا، یعنی شبِ قدر اسی میں مخلوقات کے متعلق تمام اہم اُمور جس کے فیصلے اس سال میں اگلی شبِ قدر تک واقع ہونے والے ہوتے ہیں طے کیے جاتے ہیں، کہ کون اس سال میں پیدا ہوں گے، کون کون آدمی اس سال میں مریں گے، کس کو کس قدر رزق اس سال میں دیا جائے گا، نیز اسی مقام پر ’’لیلہ مبارکہ‘‘ میں ہی نزولِ قرآن کا ذکر ہوا ہے اور قرآنِ کریم کا نزول شبِ قدر میں ہونا قرآن کی صریح نصوص سے متعین ہے، جیسا کہ اوپر گزرا، ایسی صریح نصوص کے ہوتے ہوئے بغیر کسی قوی دلیل کے نہیں کہا جاسکتا کہ نزولِ قرآن شبِ برأت میں ہوا ہے، اس سے بھی یہی معلوم ہوا کہ ’’لیلہ مبارکہ‘‘ سے مراد شبِ قدر ہے، لہٰذا اصل بات جو ظاہرِ قرآن اور احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہے وہ یہی ہے کہ سورۃ دخان میں ’’لیلہ مبارکہ‘‘ اور ﴿فیها یفرق کل امر حکیم﴾ وغیرہ کے سب الفاظ شبِ قدر ہی کے متعلق ہیں، لیکن چونکہ بعض روایاتِ حدیث میں شبِ برأت، یعنی شعبان کی پندرھویں شب کے متعلق بھی آیا ہے کہ اس میں آجال وارزاق کے فیصلے لکھے جاتے ہیں، اس لیے بعض حضرات عکرمہؒ وغیرہ نے آیتِ مذکورہ میں ’’لیلہ مبارکہ‘‘ کی تفسیر ’’لیلۃ البراءت‘‘ سے کردی ہے، مگر یہ صحیح نہیں ہے، جمہور مفسرین اور ظاہرِ قرآن کے خلاف ہونے کی وجہ سے، نیز ابن کثیرؒ نے اس کے متعلق فرمایا ہے کہ یہ روایت مرسل ہے اور ایسی روایت نصوصِ صریحہ کے مقابلہ میں قابلِ اعتماد نہیں ہوسکتی، البتہ بعض مفسرین نے دونوں روایات کے درمیان تطبیق دی ہے کہ شبِ براءت میں اجمالی فیصلے ہوتے ہیں اور شبِ قدر میں تفصیلی احکام جاری ہوتے ہیں اور ڈیوٹیاں لگائی جاتی ہیں۔
ففی التفسیر للقرطبی: واللیلة المباركة لیلة القدر (الی قوله) وقال عکرمة اللیلة المباركة هاهنا لیلة النصف من شعبان والاول اصح لقوله تعالیٰ (انا انزلناہ فی لیلة القدر) (ج16، ص126)
وفیه ایضًا: قوله تعالٰی: (فیہا یفرق کل امر حکیم) قال ابن عباس: یحکم اللہ امر الدنیا الی قابل فی لیلة القدر ما کان من حیاة او موت او رزق وقاله قتادہ ومجاہد والحسن وغیرهم (الی قوله) وقال عکرمة: هی لیلة النصف من شعبان یبرم فیہا امر السنة وینسخ الاحیاء من الاموات الخ (الی قوله) قلت وقد ذکر حدیث عائشة مطولا صاحب کتاب العروس، واختار ان اللیلة التی یفرق فیہا کل امر حکیم لیلة النصف من شعبان، وانا تسمی لیلة البرائة، وقد ذکرنا قوله والرد علیه فی غیر هذا الموضع، وان الصحیح انما هی لیلة القدر علی ما بیناہ۔ اه (ج16، ص127)
وفیه ایضًا: وقال القاضی ابوبکر بن العربی: وجمہور العلماء انہا لیلة القدر ومنہم من قال: انہا لیلة النصف من شعبان؛ وهو باطل لان اللہ تعالیٰ قال فی کتابه الصادق القاطع: (شہر رمضان الذی انزل فیه القرآن، فنص علی ان میقات نزوله رمضان، ثم عین من زمانه اللیل هاهنا بقوله: فی لیلة مباركة، فمن زعم انه فی غیرہ فقد اعظم الفرية علی اللہ، ولیس فی لیلة النصف من شعبان حدیث یقول علیه لا فی فضلہا ولا فی نسخ الآجال فیہا فلا تلتفتوا الیہا اه (ج16، ص127، 128) واللہ اعلم بالصواب!
حیض کےایّامِ عادت سے ایک دن پہلے اور بعد خون آنے کی صورت میں درمیانی ایّام میں نماز وغیرہ کا حکم
یونیکوڈ تقدیر 0