تقدیر

صحت کی وجہ سے عمر میں اضافہ اور تقدیر کی حیثیت

فتوی نمبر :
83198
| تاریخ :
2025-05-31
عقائد / ایمان و کفر / تقدیر

صحت کی وجہ سے عمر میں اضافہ اور تقدیر کی حیثیت

‌‌کیا بہتر طبی سہولیات کی وجہ سے انسانی زندگی میں اضافہ ممکن ہے ؟ ہم دیکھتے ہیں کہ ترقی یافتہ ممالک میں اوسط عمر غریب ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔ براہِ کرم وضاحت فرمائیں کہ کیا انسان کی موت کا وقت اللہ تعالیٰ کے ہاں پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے کہ نہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ اللہ رب العزت نے ہر انسان کی زندگی اور موت کا وقت پہلے سے طے فرما دیا ہے۔ انسان چاہے کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں رہتا ہو یا دنیا کی کسی بھی قسم کی بہترین طبی سہولیات سے فائدہ اٹھا رہا ہو، اس کی موت بہر حال اس کے مقررہ وقت پر ہی آئے گی، جب اس کی موت کا وقت آجائے تو کوئی طاقت اُسے روک نہیں سکتی۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں واضح ارشاد فرماتے ہیں :"وَلَنْ يُؤَخِّرَ اللَّهُ نَفْسًا إِذَا جَاءَ أَجَلُهَا ۚ(المنافقون: 11) ترجمہ: "اور جب کسی کا معین وقت آجائے گا تو اللہ اسے ہرگز مہلت نہیں دیگا، اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے" اس آیت میں بڑی صراحت ہے کہ انسان کی موت نہ ایک لمحہ پہلے آ سکتی ہے، نہ ایک لمحہ بعد۔
بہتر ین طبی سہولیات اگرچہ صحت مند زندگی حاصل کرنے کے اسبابِ ضروریہ میں سے ہیں، مگر اس کی وجہ سے موت کا مقررہ وقت ٹل نہیں سکتا اور یہ بات روز مرہ مشاہدہ میں آتی رہتی ہے کہ بہت سے صحت مند افراد بھی اچانک موت کی آغوش میں چلے جاتےہیں، لہذا اس معاملے میں زیادہ غور وحوض کرکے بلا وجہ شک و شبہ میں پڑھنے سے گریز چاہیئے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالیٰ: وَلَن يُؤَخِّرَ ٱللَّهُ نَفۡسًا إِذَا جَآءَ أَجَلُهَاۚ وَٱللَّهُ خَبِيرُۢ بِمَا تَعۡمَلُونَ( المنافقون: 11 )-
قال الله تعالي: وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٞۖ فَإِذَا جَآءَ أَجَلُهُمۡ لَا يَسۡتَأۡخِرُونَ سَاعَةٗ وَلَا يَسۡتَقۡدِمُونَ ( الأعراف: 34 )-
و فی صحیح البخاری: عن أسامة بن زيد رضي الله عنهما، «أن ابنة للنبي صلى الله عليه وسلم أرسلت إليه وهو مع النبي صلى الله عليه وسلم وسعد وأبي نحسب أن ابنتي قد حضرت، فاشهدنا فأرسل إليها السلام ويقول: ‌إن ‌لله ‌ما ‌أخذ وما أعطى وكل شيء عنده مسمى، فلتحتسب ولتصبر. فأرسلت تقسم عليه فقام النبي صلى الله عليه وسلم وقمنا، فرفع الصبي في حجر النبي صلى الله عليه وسلم ونفسه تقعقع، ففاضت عينا النبي صلى الله عليه وسلم، فقال له سعد: ما هذا يا رسول الله، قال: هذه رحمة وضعها الله في قلوب من شاء من عباده، ولا يرحم الله من عباده إلا الرحماء. ( باب عیادۃ الصبیان، ج: 7، ص: 117، ناشر: دار طوق النجاۃ )-
و فی صحیح مسلم : عن أسامة بن زيد ، قال: « كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم، فأرسلت إليه إحدى بناته تدعوه، وتخبره أن صبيا لها، أو ابنا لها، في الموت، فقال للرسول: ارجع إليها، فأخبرها: ‌أن ‌لله ‌ما ‌أخذ وله ما أعطى، وكل شيء عنده بأجل مسمى، فمرها فلتصبر ولتحتسب، فعاد الرسول، فقال: إنها قد أقسمت لتأتينها، قال: فقام النبي صلى الله عليه وسلم، وقام معه سعد بن عبادة، ومعاذ بن جبل، وانطلقت معهم، فرفع إليه الصبي ونفسه تقعقع كأنها في شنة، ففاضت عيناه، فقال له سعد: ما هذا يا رسول الله؟! قال: هذه رحمة، جعلها الله في قلوب عباده، وإنما يرحم الله من عباده الرحماء . ( باب البکاء علی المیت، ج: 3،ص: 39، ناشر: دار الطباعۃ العامرۃ ترکیا)-
وفی القدر لإبن وھب : عن أبي هريرة رضي الله عنه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لما أن خلق الله عز وجل آدم مسح على ظهره فسقط من ظهره كل نسمة تكون إلى يوم القيامة فعرضهم على آدم فرأى في وجه كل رجل منهم وبيصا من نور، فرأى رجلا منهم وله وبيص فأعجبه، فقال: من هذا يا رب؟ قال: هذا من ولدك اسمه داود قال: كم عمره يا رب؟ قال: ستون سنة، قال: زده من عمري أربعين سنة، قال: إذن تكتب وتخبأ ولا تبدل، قال: فلما نفد عمر آدم إلى أربعين سنة التي وهبها لداود أتاه ملك الموت فقال آدم: قد بقي من عمري أربعون سنة، قال: ألم تعطها ابنك داود؟ قال: فجحد آدم فجحدت ذريته، وخطئ فخطئت ذريته، ونسي فنسيت ذريته، فرأى فيهم القوي والضعيف، والغني والفقير، والصحيح والمبتلى، قال: يا رب، ألا سويت بينهم؟ قال: أردت أن أشكر»( باب تقدير ‌أعمار ‌بني ‌آدم وما يجري عليهم من قبل أن يعرضوا على أبيهم آدم عليه الصلاة والسلام، ص: 67، ناشر:دار السلطان مکۃ المکرمۃ)-
و فی سنن الترمذی: عن أبي هريرة قال: خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن نتنازع في القدر فغضب حتى احمر وجهه، حتى كأنما فقئ في وجنتيه الرمان، فقال: «أبهذا أمرتم ‌أم ‌بهذا ‌أرسلت ‌إليكم؟ إنما هلك من كان قبلكم حين تنازعوا في هذا الأمر، عزمت عليكم ألا تتنازعوا فيه»( باب ماجاء فی التشدید فی الخوض فی القدر، ج:4، ص: 443، ناشر: مطبعۃ مصطفی البابی الحلبی )-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بشیر احمد جمعہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 83198کی تصدیق کریں
0     402
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • شادی اور رزق کا فیصلہ جب ازل میں ہوچکا تو نماز، دعا اور شکر سے اس میں تبدیلی کیسے ممکن ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   تقدیر 0
  • کیا سب کچھ تقدیر میں لکھا جا چکا ہے

    یونیکوڈ   اسکین   تقدیر 0
  • نورانی قاعدہ اور نماز کی کتاب کو ایامِ حیض میں چھوُنا

    یونیکوڈ   تقدیر 0
  • انسانوں کی تقدیر کا فیصلہ ’’شبِ قدر‘‘ کو ہوتا ہے یا شبِ برأت کو؟

    یونیکوڈ   تقدیر 1
  • اگر گناہ اللہ کی مرضی سے ہوتے ہیں تو ان پر سزا کیوں؟

    یونیکوڈ   تقدیر 0
  • خواب کی حقیقت-خواب سے باہر کی دنیا اور دیکھے ہوۓخواب کا تعلق-تقدیر

    یونیکوڈ   تقدیر 0
  • جب سب کچھ اللہ حکم سے ہوتا ہے تو اعمال پر جزا وسزا کیوں؟

    یونیکوڈ   تقدیر 0
  • تقدیر میں لکھی ہوئی کون سی چیزیں بدلی جا سکتی ہیں اور کون سی نہیں؟

    یونیکوڈ   تقدیر 0
  • اللہ شروع سے کیسے ہیں؟

    یونیکوڈ   تقدیر 0
  • انسان اپنے اعمال میں کتنا خود مختار ہے؟

    یونیکوڈ   تقدیر 0
  • جب ہر کام اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے تو گناہوں پر سزائیں کیوں دی جاتی ہیں؟

    یونیکوڈ   تقدیر 0
  • حیض کےایّامِ عادت سے ایک دن پہلے اور بعد خون آنے کی صورت میں درمیانی ایّام میں نماز وغیرہ کا حکم

    یونیکوڈ   تقدیر 0
  • دعا، صدقہ، خیرات، عبادات اور محنت سے تقدیر بدل سکتی ہے یا نہیں؟

    یونیکوڈ   تقدیر 0
  • تقدیر کے متعلق سوال

    یونیکوڈ   تقدیر 0
  • کیا تقدیر کے لکھے ہونےسے کوئی شخص مجبور ہو جاتا ہے؟

    یونیکوڈ   تقدیر 0
  • اللہ تعالی کی ذات عالی کے بارے میں کلام کرنا

    یونیکوڈ   تقدیر 0
  • ’’دنیا مقدر میں ہے اور دین مقدر میں نہیں ہے‘‘جملہ کہناکیساہے؟

    یونیکوڈ   تقدیر 0
  • معمولات مکمل ہونے کے باوجود گناہ میں مبتلا ہونا

    یونیکوڈ   تقدیر 0
  • صحت کی وجہ سے عمر میں اضافہ اور تقدیر کی حیثیت

    یونیکوڈ   تقدیر 0
Related Topics متعلقه موضوعات