کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت کی عادت ہے کہ ہر پہلی تاریخ سے دس تاریخ تک اس کو حیض آتا ہے، ایک دفعہ تیس تاریخ کو صرف خون آیا اور دس دن تک خون بند رہا پھر گیارہویں تاریخ کو صرف ایک دن خون آیا، دریافت طلب امر یہ ہے کہ اِن درمیان کے دس دنوں میں جن میں خون نہیں آیا ،نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں پہلی سے دس تاریخ تک حسبِ عادت حیض اور اس سے آگے پیچھے آنے والا خون استحاضہ کا ہے، جبکہ ایّامِ حیض میں نماز پڑھنا جائز نہیں اور ایّامِ استحاضہ میں جائز ہے۔
فی التاتارخانیة: و فی المعتادة معروفتها حیض وما زاد علی ذلك استحاضة اھ(۱/ ۳۳۸)۔
وفی بدائع الصنائع: (وأما) صاحبة العادة فی الحیض إذا کانت عادتها عشرة فزاد الدم علیها فالزیادة استحاضة اھ(۱/۴۱)۔
وفیه أیضاً: (وأما) حکم الحیض والنفاس فمنع جواز الصلاة والصوم وقرأة القرآن ومس المصحف (إلی قوله) (وأما) حکم الاستحاضة فالاستحاضةحکمها حکم الطاهرات غیر انها فتوضأ لوقت کل صلاة علی ما بینا اھ (۱/۴۴)۔
حیض کےایّامِ عادت سے ایک دن پہلے اور بعد خون آنے کی صورت میں درمیانی ایّام میں نماز وغیرہ کا حکم
یونیکوڈ تقدیر 0