کیا فرماتے ہیں علماء ِکرام و مفتیانِ عظام درج ذیل مسائل کے بارے میں کہ:
۱۔ لوگ کہتے ہیں کہ شادی اور رزق کا فیصلہ تو ماں کے پیٹ میں ہو جاتا ہے پھر بھی کہا جاتا ہے کہ نماز دعا اور شکر سے رزق بڑھ جاتا ہے، اگر یہ لوحِ محفوظ میں لکھ دیا گیا تو پھر دعا اس کو بدل کیسے سکتی ہے؟
۲۔ شادی کے سلسلے میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا ہم پسند کی شادی کے لیے دعا مانگ سکتے ہیں؟ یعنی کسی نامحرم کے لیے کہ وہ اللہ کی برکت سے نکاح میں آجائے اور شادی سب کی رضامندی سے ہو جائے۔
اور یہ بھی اگر پسند کی شادی نہ ہو اور بندہ پھر شادی سے انکار کر دے کہ وہ کبھی کسی اور سے نہیں کرےگا تو کیا یہ جائز ہے، کیونکہ کہا جاتا ہے کہ شادی سنت ہے فرض نہیں اور سنت کو اپنانا بہترین عمل ہے، مگر عمل نہ کرنا گناہ نہیں ہے، جبکہ وہ سنتِ مؤکدہ نہ ہو؟
اس میں تو کوئی شک نہیں کہ یہ امور اللہ تعالیٰ نے پہلے سے مقرر فرما دیئے ہیں،مگر یہ پوشیدہ اور مخفی ہیں اور تقدیر کے کئی فیصلے بندوں کے افعال پر معلق ہوتے ہیں ،ممکن ہے یہ بھی ہماری دعاؤں پر معلق ہوں اور یہ دعائیں اور نیک اعمال اللہ تعالیٰ کی طرف سے اچھے فیصلوں کے صادر ہونے کا سبب بن جائیں، جبکہ فیصلے لکھنے والے اللہ ہیں اور وہی انہیں بدلنے پر بھی قادر ہیں، اس لیے دعائیں اور نیک اعمال کرتے رہنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر راضی رہنا چاہیے، جبکہ پسند کی شادی کے لیے دعا کر سکتے ہیں، مگر اپنی پسند کو اپنے فیصلے کا درجہ دے کر پسند کی جگہ شادی نہ ہونے کی صورت میں شادی سے ہی انکار اور لاتعلق ہو جانا اور شادی کو ہر حال میں سنت سمجھنا درست نہیں، بلکہ بعض حالات میں فرض و واجب کا درجہ بھی اختیار کر لیتی ہے اور اس سے انکار کئی گناہوں کا سبب بھی بن سکتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر راضی رہتے ہوئے جس جگہ شادی ہو جائے اس کو اپنے لیے بہتر سمجھ کر منظور کرنا چاہیے۔
ففی مرقاة المفاتيح: الإيمان بالقدر فرض لازم، وهو أن يعتقد أن الله تعالى خالق أعمال العباد خيرها، وشرها، وكتبها في اللوح المحفوظ قبل أن خلقهم، والكل بقضائه وقدره، وإرادته، ومشيئته، غير أنه يرضى الإيمان والطاعة، ووعد عليهما الثواب، ولا يرضى الكفر والمعصية وأوعد عليهما العقاب. (إلی قوله)وفي كلامه خفاء إذ المعلق، والمبرم كل منهما مثبت في اللوح غير قابل للمحو، نعم المعلق في الحقيقة مبرم بالنسبة إلى علمه تعالى اه (1/ 147،148)
و فی سنن الترمذي: عن سلمان قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: لا يرد القضاء إلا الدعاء، ولا يزيد في العمر إلا البر اه (4/ 16)
وفی الترغيب والترهيب: عن أبي نجيحٍ؛ أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: "مَنْ كانَ موسِراً لأَنْ يَنْكِحَ ثمَّ لَمْ يَنْكِحْ؛ فلَيْسَ مِنِّي". رواه الطبراني بإسناد حسن اه (2/ 7)
وفی الفقه الأكبر: خلق الله تَعَالَى الْأَشْيَاء لَا من شَيْء وَكَانَ الله تَعَالَى عَالما فِي الْأَزَل بالأشياء قبل كَونهَا وَهُوَ الَّذِي قدر الْأَشْيَاء وقضاها وَلَا يكون فِي الدُّنْيَا وَلَا فِي الْآخِرَة شَيْء الا بمشيئته وَعلمه وقضائه وَقدره وَكتبه فِي اللَّوْح الْمَحْفُوظ وَلَكِن كتبه بِالْوَصْفِ لَا بالحكم وَالْقَضَاء وَالْقدر والمشيئة صِفَاته فِي الْأَزَل اھ(ص: 29) والله أعلم بالصواب!
حیض کےایّامِ عادت سے ایک دن پہلے اور بعد خون آنے کی صورت میں درمیانی ایّام میں نماز وغیرہ کا حکم
یونیکوڈ تقدیر 0