مفتی صاحب ! آپ یہ بتائیں کہ انسان اپنے اعمال میں کتنا خود مختار ہے۔
بندہ اپنے افعال میں نہ اتنا بااختیار ہے کہ اسے خلقِ افعال کی قدرت ہو ، نہ اتنا بے اختیار اور مجبور ہے کہ وہ جمادات کے مثل ہو ، البتہ جن افعال پر ثواب و عقاب مرتّب ہوتا ہے وہ افعال اس کے اختیار میں شمار ہوتے ہیں ،جنہیں وہ اپنے ارادہ سے سر انجام دیتا ہے ، تاہم اس بحث میں زیادہ غور وخوض سے احتراز چاہیے۔
حیض کےایّامِ عادت سے ایک دن پہلے اور بعد خون آنے کی صورت میں درمیانی ایّام میں نماز وغیرہ کا حکم
یونیکوڈ تقدیر 0