شرعی حکم اس شخص کے بارے میں کیا ہے جو اللہ ہی پر یقین رکھتا ہے اور کسی اور کی مدد نہیں لیتا ہے کسی بھی چیز کے لئے،اس کا کہنا ہے کہ وہ اللہ کی لکھی ہوئی تقدیر پر یقین رکھتا ہے اور اس لئے کسی بھی چیز کی ضرورت مزید نہیں ہے۔
سائل کا مذکور اعتقاد بلاشبہ قابل تعریف ہے اور ایک مسلمان کو ایسا ہی اعتقاد رکھنا چاہیے مگر اس سے سائل کی مراد معلوم نہیں ہوسکی،اگر وہ اپنی مراد بھی واضح طور پر لکھ کر ای میل کر دیتا ہے تو تفصیلی جواب اور حکم شرعی لکھنے میں بھی سہولت رہے گی۔
حیض کےایّامِ عادت سے ایک دن پہلے اور بعد خون آنے کی صورت میں درمیانی ایّام میں نماز وغیرہ کا حکم
یونیکوڈ تقدیر 0