السلام علیکم رحمۃ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب!میں آپ سے تقدیر سے متعلق ایک مسئلہ پوچھنا چاہتا ہوں،جامع الفتاویٰ جلد۲صفحہ نمبر ۲۰۱ موضوع تقدیر (حضرت مولانا مفتی محمد انور صاحب ،جامع خیر المدارس ملتان) میں آپ نے لکھا ہے:
سوال:جو چیز انسان کی تقدیر میں لکھی گئی ہے وہ کسی تدبیر سے دفع ہوسکتی ہے یا نہیں؟
جواب:نہیں
سوال:اور جو چیز نہیں لکھی گئی وہ دعا کرنے سے مل سکتی ہے یا نہیں؟
جواب:نہیں
میرا سوال یہ ہے کہ کیا دعا، صدقہ، خیرات، عبادات اور محنت سے تقدیر بدلی جاسکتی ہے یانہیں؟آپ تو اس واقعہ کو جانتے ہوں گے، ایک شخص نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ سے عرض کریں وہ میرا رزق مجھے ایک بار دے دے تاکہ میں جی بھر کر کے کھالوں، اللہ تعالیٰ نے اس کو سارا رزق دے دیا، لیکن اس کے بعداس نےرزق کو غربیوں اور مستحق لوگوں میں تقسیم کر دیا، جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اتنا رزق دیا کہ وہاں لنگر چلتا تھا۔ مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ کیا دعا، صدقہ، نفلی عبادات، قرآن کی تلاوت اور محنت سے تقدیر بدلی جا سکتی ہے یا نہیں؟ میں اس خلجان کا شکار ہوں براہ کرم راہنمائی فرمائیں۔
تقدیر کا مسئلہ بلاشبہ اٹل ہے اور اس میں کلام کی گنجائش نہیں اور اس سلسلے میں زیادہ کھود کُرید ممنوع ہے، مگر تقدیر بھی دو طرح کی ہوتی ہے:ایک مبرم اس میں کسی قسم کی تبدلی نہیں ہوتی، نہ صدقہ سے اور نہ ہی کسی اور عمل سے،جبکہ دوسری قسم تقدیر کی وہ ہےجو اللہ کے علم میں کسی چیز کے ساتھ معلق ہوتی ہے،مثلاً یہ شخص صدقہ کرے گا تو ایسا ہوجائے گا،یہ کام بھی دراصل تقدیر ِ خداوندی کی وجہ سے ہوتا ہے،تاہم اس کا ظاہری سبب صدقہ بن جاتا ہے،اس لیے اس کی نسبت صدقہ کی طرف کردی جاتی ہے،ورنہ یہ درحقیقت اللہ کی طرف سےطے شدہ اندازہ اور تقدیر کی وجہ سے ہی ہوتا ہے،اس لیے مذکور فتاویٰ میں تقدیرِ خداوندی کو دیکھتے ہوئے اس کی نفی کی گئی ہے، جو اپنی جگہ درست ہے،جبکہ سوال میں سیدنا موسیٰ کی طرف منسوب واقعہ تلاشِ بسیار کے باوجود ہمیں کسی مستند کتاب میں نہیں ملا، لہذا اس طرح کے غیر مستند واقعات کی وجہ سے تقدیر جیسےمسئلے کے متعلق شکوک وشبہات اور خلجان کا شکار ہونا قطعاً مناسب نہیں، جس سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
لما فی التنزیل العزیز :﴿ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ﴾(الروم41)
وفی مشكاة المصابيح: وعن عائشة رضي الله عنها قالت: سمعت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يقول: «من تكلم في شيء من القدر سئل عنه يوم القيامة ومن لم يتكلم فيه لم يسأل عنه». (1/ 40)
و فی مرقاة المفاتيح: الإيمان بالقدر فرض لازم، وهو أن يعتقد أن الله تعالى خالق أعمال العباد خيرها، وشرها، وكتبها في اللوح المحفوظ قبل أن خلقهم، والكل بقضائه وقدره، وإرادته، ومشيئته، غير أنه يرضى الإيمان والطاعة، ووعد عليهما الثواب، ولا يرضى الكفر والمعصية وأوعد عليهما العقاب. (إلی قوله)وفي كلامه خفاء إذ المعلق، والمبرم كل منهما مثبت في اللوح غير قابل للمحو، نعم المعلق في الحقيقة مبرم بالنسبة إلى علمه تعالى. (1/ 147،148)
حیض کےایّامِ عادت سے ایک دن پہلے اور بعد خون آنے کی صورت میں درمیانی ایّام میں نماز وغیرہ کا حکم
یونیکوڈ تقدیر 0