السلام، دیکھیں مجھے سوال کی نوعیت کا اندازہ نہیں، مگر آپ اس کا جواب دے دیں براہِ مہربانی، سوال جس عنوان کا بھی ہو اس ڈیپارٹ میں بھجوا دیں جزاک اللہ خیر۔ اللہ معاف کرے مگر میں اکثر جب گناہ میں مبتلا ہوتا ہوں خاص طور پر شہوت کے، میں ازخود خواہش پوری کرتا ہوں، تو فوراً 1 سے 2 گھنٹے یا صبح سے شام کے دوران کوئی بُری خبر سننے کو ملتی ہے یا گھر میں خواتین کی بیماری یا میری یا گھر کے کسی دوسرے کفیل کے رزق میں تنگی یا کوئی بڑا نقصان یا چھوٹا حادثہ پیش آنا۔ اب ایسا ہو گیا ہے کہ میں گناہ کے بعد انتظار میں رہتا ہوں کہ اب اس کا ری ایکشن کیا نکلتا ہے اور ایسا ہی ہوتا ہے، کچھ دیر میں اندازہ بھی ہو جاتا ہے۔ میں پریشان ہوں کہ یہ معاملہ کیا ہے، ورنہ الحمد للہ میرے معمولات بھی پورے ہیں مگر جب گناہ میں مبتلا ہوتا ہوں تو ایسا ہوتا ہے، کیا یہ تنبیہ ہے اور اوپر سے اشارہ ہےیامیری نفسیات؟ رہنمائی فرمائیں اور مجھے اس کا بھی بتائیں کہ میرے معمولات بھی پورے ہیں مگر گناہ میں مبتلا ہونا یہ کیسا ہے، کیا میرے معمولات قبول نہیں؟ والسلام
اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوتا ہے اور بسا اوقات دنیا میں بھی اس کا ظہور بندے کو محسوس بھی ہوتا ہے جیسا کہ سائل کو بھی احساس ہو رہا ہے، لہٰذا سائل کو چاہئے کہ آئندہ ہر قسم کے گناہ ترک کرنے کا عزم کرلے، جبکہ سائل اس اعتبار سے خوش نصیب بھی ہے کہ اسے فوراً احساس ہو جاتا ہے، تاہم اگر بہ ظاہر کوئی گناہ سرزد نہ بھی ہو تو مصائب اور مشکلات آنے کا یہ مطلب نہیں کہ اچھے اعمال قبول نہ ہو بلکہ دنیا چونکہ آزمائش کا گھر ہے اس لیے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزمانے کے لیے بھی حالات لاتے ہیں جن میں کامیابی کا راستہ یہی ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر رضا کا اظہار کرتے ہوئے صبر کرے اور اس کی اطاعت سے منہ نہ موڑے، چنانچہ صالحین کا یہی وطیرہ ہے جس کی انہیں بنا ءپر صابرین میں مقام ملتا ہے۔
كما قال الله تعالي: قُلۡ يَٰعِبَادِيَ ٱلَّذِينَ أَسۡرَفُواْ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمۡ لَا تَقۡنَطُواْ مِن رَّحۡمَةِ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَغۡفِرُ ٱلذُّنُوبَ جَمِيعًاۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ (سوره الانعام:آية:٥٣)
وفي سنن الترمزي:عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: ِذَا أَرَادَ اللهُ بِعَبْدِهِ الْخَيْرَ عَجَّلَ لَهُ الْعُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا وَإِذَا أَرَادَ اللهُ بِعَبْدِهِ الشَّرَّ أَمْسَكَ عَنْهُ بِذَنْبِهِ حَتَّى يُوَافِيَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.(باب في الصبرعلی البلاء،ج:٢،ص:٨٢٧،مط:البشرى)
وفي تفسير روح المعاني: مَنْ جاءَ بِالْحَسَنَةِ استئناف مبين لمقادير أجزية العاملين وقد صدر ببيان أجزية المحسنين المدلول عليهم بذكر أضدادهم أي من جاء من المؤمنين بالخصلة الواحدة من خصال الطاعة أي خصلة كانت، فَلَهُ عَشْرُ حسنات أَمْثالِها فضلا من الله تعالى. وَمَنْ جاءَ بِالسَّيِّئَةِ كائنا من كان من العالمين فَلا يُجْزى إِلَّا مِثْلَها بحكم الوعد واحدة بواحدة(سورة الانعام،ج:٨،ص:٦٩/٦٨،مط:مكتبه امداديه)
و في الشاميه تحت:(قَوْلُهُ الِاسْتِمْنَاءُ حَرَامٌ) أَيْ بِالْكَفِّ إذَا كَانَ لِاسْتِجْلَابِ الشَّهْوَةِ، أَمَّا إذَا غَلَبَتْهُ الشَّهْوَةُ وَلَيْسَ لَهُ زَوْجَةٌ وَلَا أَمَةٌ فَفَعَلَ ذَلِكَ لِتَسْكِينِهَا فَالرَّجَاءُ أَنَّهُ لَا وَبَالَ عَلَيْهِ كَمَا قَالَهُ أَبُو اللَّيْثِ، وَيَجِبُ لَوْ خَافَ الزِّنَا(كتاب الحدود،ج:٤،ص:٢٧،مط:سعيد)
حیض کےایّامِ عادت سے ایک دن پہلے اور بعد خون آنے کی صورت میں درمیانی ایّام میں نماز وغیرہ کا حکم
یونیکوڈ تقدیر 0