آپ حضرات سے ایک استفتاء کی وضاحت مطلوب ہے، وہ یہ کہ درودِ ابراہیمی کے علاوہ دوسرے درود ، مثلاً درودِ تاج اور درودِ گنج وغیرہ ،کیا ان کا ثبوت شریعت میں ہے ؟ کیا ان کو وظائف کے طور پر پڑھ سکتے ہیں؟ کیا نماز میں درودِ ابراہیمی کے بدلے ان درود کو پڑھ سکتے ہیں؟ براہِ کرم شریعت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
اگرچہ ہر وہ درود جس کے الفاظ ، اور معانی وغیرہ کسی فاسد عقیدہ پر مبنی نہ ہوں، بلکہ آپ علیہ السلام کی تعریف اور آپ کیلۓ دعا کو متضمن ہوں، ان کا پڑھنا اور بطورِ وظیفہ معمول بناۓ رکھنا بھی بلاشبہ جائز اور درست ہے ،مگر نماز میں ایسے درود و سلام کےبجائے فقط درودِِ ابراہیمی پر ہی اکتفاء کرنا چاہیۓ کہ اس میں یہی منقول و ماثور اور یہی باعث ِثواب ہے۔
في الجمع بين الصحيحين البخاري و مسلم : الثاني عن محمد بن عبد الله بن زيد الأنصاري - و والده عبد الله بن زيد الأنصاري هو الذي كان رأي النداء بالصلاة۔ عن أبي مسعود الأنصاري قال أتانا رسول الله {صلى الله عليه وسلم} و نحن في مجلس سعد بن عبادة فقال له بشير بن سعد أمرنا الله أن نصلي عليك يا رسول الله فكيف نصلي عليك فسكت رسول الله {صلى الله عليه وسلم} حتى تمنينا أنه لم يسأله ثم قال رسول الله {صلى الله عليه وسلم} قولوا اللهم صل على محمدٍ و على آل محمدٍ كما صليت على آل إبراهيم و بارك على محمد و على آل محمدٍ كما باركت على آل إبراهيم إنك حميدٌ مجيد و السلام كما قد علمتم اھ۔