کیا فرماتے ہیں علماءِکرام مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں کہ :
(۱) اکثر لوگ نماز کے بعد سجدۂ شکر ادا کرتے ہیں یعنی نماز پڑھنے کے بعد دعاء کرتے ہوئے سجدہ میں چلے جاتے ہیں، اس کے بارے میں دلائل کے ساتھ واضح کریں کہ ان حضرات کا ایسا کرنا شریعت کے مطابق کیا ہے۔
(۲) میت کے مرنے کے بعد اس کے گھرمیں مخصوص دن مقرر کرکے ختمِ قرآن پڑھاتے ہیں ،ان کا ایسا کرنا کیسا ہے؟ اور نیز اس بات کی وضاحت کردیں کہ آج کل قرآن خوانی کرنا کیسا ہے؟ بعض حضرات نے تو اس کا رواج بنالیا ہے کہ اگر تیجہ یا چالیسواں نہ کرایا جائے تو سمجھتے ہیں کہ اس نے بہت بڑا گناہ کیا ہے، نیز ان کے ہاں قرآن خوانی کے بعد کھانے کو لازمی سمجھتے ہیں، اس کے بارے میں وضاحت سے بتائیں۔
(۱) نماز کے فوراً بعد سجدۂ شکر ادا کرنا اگرچہ جائز اور مباح ہے مگر عام عوام عقیدۃً اسے ضروری اور سنت کا درجہ دیتے ہیں اور یہ دین میں زیادتی ہے لہٰذا اس سے احتراز کرنا ضروری ہے۔
(۲) واضح ہو کہ قرآن کریم کی تلاوت کرنا عبادات میں سے اہم ترین اور زیادہ باعثِ اجر و ثواب ہے لیکن شریعت نے اس کی کوئی خاص صورت اور ہیئت متعین نہیں فرمائی بلکہ آداب و شرائط ملحوظ رکھتے ہوئے قرآن کریم کی تلاوت کرنا باعثِ ثواب ہی ثواب ہے۔
البتہ موجودہ دور میں اجتماعی قرآن خوانی کی جو صورت ،عام معاشرہ میں لوگوں نے متعین کر رکھی ہے، ایصالِ ثواب اور ختمِ قرآن کریم کا یہ طریقہ قرونِ ثلاثہ مشہود لہا بالخیر سے ثابت نہیں اس لئے یہ بدعت ہے اور مزید یہ کہ اس میں بدعت ہونے کے علاوہ کئی ایک خرابیاں بھی ہیں اور وہ یہ کہ دوست، رشتہ دار تو عموماً محض شکایت سے بچنے کیلئے آتے ہیں ایصالِ ثواب مقصود نہیں ہوتا، حتیٰ کہ اگر کوئی دوست یا عزیز اپنے گھر بیٹھ کر پورا قرآن ختم کرکے بخش دے تب بھی اہلِ میت راضی نہیں ہوتے اور اگر راضی ہو بھی جائیں تب بھی نہ آنے کی شکایت باقی رہتی ہے اور اگر اہلِ میت کے یہاں آکر، تھوڑی دیر بیٹھ کر اور حیلہ و بہانہ بناکر چلا جائے تو شکایت سے بچ جاتا ہے، اور جو عمل ایسے مقاصد کیلئے ہو اس پر کچھ ثواب نہیں ملتا اور جب پڑھنے والا ہی اس کے ثواب سے محروم رہا تو مردے کو کیا بخشے گا؟
اب رہا فقراء اور مساکین کا آنا تو یہ حضرات اکثر اس لئے آتے ہیں کہ کچھ نہ کچھ ملے گا، اگر انہیں پہلے سے ہی معلوم ہوجائے کہ ملے گا کچھ بھی نہیں، صرف پڑھنا ہی پڑھنا ہے تو ہرگز ایک بھی نہیں آئے گا، اس سے معلوم ہوا کہ ان حضرات کا آنا بھی محض اس توقع سے ہوتا ہے کہ کچھ مل جائے گا اور جب ان کا پڑھنا بھی دنیاوی غرض کیلئے ہوا تو اس کا ثواب کہاں سے ملے گا اور مردے کو کیا بخشیں گے۔
اور اسی طریقہ سے ایسے مواقع میں مردوں اور عورتوں کا باہم اختلاط بھی ہوتا ہے جو کہ ناجائز ہے اس لئے ایسی بدعات وخرافات سے اجتناب ضروری ہے، تاہم اگر اپنے طور پر پورے گھر والے قرآن کریم پڑھ کر یا دوسرے رشتہ داربھی اپنے اپنے مقام سے پڑھ کر میت کو بخش دیں ،کسی ایک جگہ جمع ہونے اور وقت کی تعیین کو ضروری نہ سمجھیں تویہ جائز ہے، اور خلوص کے ساتھ اپنے طورپر انفرادی حیثیت سے فقط تین مرتبہ قل ہو اللہ احد الخ پڑھ کر ایصالِ ثواب کرنا مروجہ اجتماعی قرآن خوانی سے بہرحال بہتر ہے، اس لئے ضروری ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت جیسے عظیم اور مہتم بالشان عمل کو بدعات اور خرافات سے پاک کرکے خلوص کے ساتھ کریں اگرچہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔
اور تیجہ، چالیسواں وغیرہ کا بھی قرونِ ثلاثہ مشہود لہا بالخیر میں کوئی ثبوت نہیں، لہٰذا اس کو ثواب اور ضروری سمجھنا خالص بدعت ہے اور گمراہی ہے اور ان سے احتراز کرنا واجب ہے، باقی سمجھنے، سمجھانے کیلئے اتنی بات کافی ہے کہ اگر یہ ثواب کے کام ہوتے تو خود نبی کریم ﷺ، صحابہ کرام اور سلفِ صالحین باوجود حریص علی الخیر ہونے کے ،ان رسموں کو کبھی نہ چھوڑتے۔
فی الشامیۃ: وسجدۃ الشکر مستحبۃ بہ یفتی لکنہا تکرہ بعد الصلاۃ لان الجماعۃ یعتقدونہا سنۃ او واجبۃ وکل مباح یودی الیہ فمکروہ۔( ج۲، ص۵۷۷)۔
وفی رد المحتار: واتخاذ الدعوۃ لقراءۃ القرآن وجمع الصلحاء والقراء للختم او لقراء ۃ سورۃ الانعام او الاخلاص والحاصل ان اتخاذ الطعام عند قراءۃ القرآن لاجل الاکل یکرہ وفیہا من کتاب الاستحسان وان اتخذ طعاما للفقراء کان حسنًا۔ اھـ واطال فی ذٰلک فی المعراج وقال: وھذہ الافعال کلہا للسمعۃ والریاء فیحترز عنہا لانہم لا یریدون بہا وجہ اﷲ تعالٰی۔ اھـ (ج۲، ص۲۴۰)۔
وفیہ ایضًا: فالحاصل ان ما شاع فی زماننا من قراء ۃ الاجزاء بالاجرۃ لا یجوز لان فیہ الامر بالقراء ۃ واعطاء الثواب للآمر والقراءۃ لأجل المال، فإذا لم یکن للقاریٔ ثواب لعدم النیۃ الصحیحۃ فأین یصل الثواب الی المستأجر ولولا الاجرۃ ما قرء احد لأحد فی ھذا الزمان بل جعلوا القرآن العظیم مکسبا و وسیلۃ إلی جمع الدنیا، اناللّٰہ وانا الیہ راجعون (الٰی قولہٖ )لان ذٰلک یشبہ استیجارہ علی قراء ۃ القرآن وذٰلک باطل ولم یفعل ذٰلک احد من الخلفاء۔ اھـ وفیہ ایضًا: ونقل العلامۃ الحلوانی (إلی قولہ) ولا یصح الاستئجار علی القراء ۃ واہدائہا إلی المیت، لانہ لم ینقل عن احد من الائمۃ الإذن فی ذٰلک: وقد قال العلماء: ان القاریٔ إذا قرء لأجل المال فلا ثواب لہ فأی شیٔ یہدیہ إلی المیت۔اھـ(ج۶، ص۵۶،۵۷)۔