السلام علیکم! ایک عیسائی نے پوچھا کہ آپ (یعنی مسلمان) پیغمبر ِمحمدﷺکے نام کے ساتھ کہتے اور لکھتے ہیں ’’ان پر امن ہو‘‘ یعنی ﷺ ،اس کا خیال ہے کہ محمدؐ امن میں نہیں ہیں اور یہ کہ پیغمبر ہونےکے باوجود بھی آپ لوگوں کی دعا کی ضرورت ہے ، براہِ مہربانی میری رہنمائی فرمائیں۔
آپﷺ کے نامِ گرامی کے ساتھ ’’ﷺ‘‘ لکھنے یا پڑھنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ علیہ السلام غیرمامون ہیں، بلکہ یہ دعائیہ کلماتِ طیبات ہیں، جو کئی وجوہ کی بناء پر پڑھے جاتے ہیں، جن میں سے چند درجِ ذیل ہیں :
۱۔ اس لیے کہ نبی کریم ﷺ کے امت پر بہت زیادہ احسانات ہیں، جن کا بدلہ یہی ہوسکتا ہے کہ ہم بار بار آپﷺ کی خدمت میں درود بھیجیں اور دعاءِ رحمت کریں۔
۲۔ اس لیے کہ اس میں ہمارا اپنا فائدہ بھی ملحوظ ہے، اس طور پر کہ آپﷺ پر ایک مرتبہ درود کے عوض ہمیں دس نیکیاں ملتی ہیں، دس گناہ معاف ہوتےہیں اور دس درجات بھی بلند ہوتےہیں۔
۳۔ اس لیے کہ یہ دعا ہے جو تمام انبیاءِکرام کے ناموں کے ساتھ ’’علیہ السلام‘‘ اور صحابہ کرام کے ناموں کے ساتھ ’’رضی اللہ عنہم‘‘ اور دیگر بزرگانِ دین کےناموں کے ساتھ ’’رحمہ اللہ‘‘ کےکلمات کے ساتھ کی جاتی ہے۔ اور یہ اس بناء پر نہیں کہ یہ تمام ہستیاں غیرمامون تھیں، بلکہ یہ دعائیں درجات کےلیے ہیں۔
۴۔ اور اس لیے کہ نبی کریمﷺ کے اسمِ گرامی کے بعد درود پڑھنے کا خود رب کریم نے ارشاد فرمایا ہے:
’’﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ (الأحزاب: 56)‘‘
اس کے علاوہ دیگر وجوہات بھی درود پڑھنے کی موجود ہیں، لہٰذا کسی شخص کو یہ اعتراض کرنے اور لب کشائی کا حق حاصل نہیں کہ وہ نبی کریم ﷺ کے بارے میں یہ کہے کہ وہ غیرمامون ہیں ، اس لیے اُن پر درود پڑھا جاتا ہے۔
ففی تفسير روح المعاني: تفسير صلوا عليه بقولوا: اللهم صلّ على النبي أو نحوه. ومن فسره بذلك أراد أن المراد بالتعظيم المأمور به ما يكون بهذا اللفظ ونحوه مما يدل على طلب التعظيم لشأنه عليه الصلاة والسّلام من الله عزّ وجلّ لقصور وسع المؤمنين عن أداء حقه عليه الصلاة والسّلام. (11/ 253)-
وفی سنن النسائي:عن أنس بن مالك، قال: قال رسول الله – صلی اللہ علیه وسلم - : «من صلى علي صلاة واحدة صلى الله عليه عشر صلوات، وحطت عنه عشر خطيئات، ورفعت له عشر درجات»(3/ 50)-