کیا فرماتے ہیں علماءِکرام حضرت لقمان علیہ السلام کےمتعلق، کیا حضرت لقمان نبی تھے؟ رسول تھے یا ولی تھے؟
حضرت لقمان علیہ السلام کے نبی ہونے کے بارے میں اختلاف ہے تاہم جمہور سلف کے نزدیک وہ نبی نہیں تھے بلکہ ایک ولی اور حکیم تھے اور یہی قول زیادہ احوط اور مناسب ہے۔
فی التفسیر لابن الکثیر: ولہذا کان جمہور السلف علی انہ لم یکن نبیًّا وانما ینقل کونہ نبیًّا عن عکرمۃؓ إن صح السندالیہ فانہ رواہ ابن جریر وابن ابی حاتم من حدیث وکیع عن اسرائیل عن جابر عن عکرمۃ فقال کان لقمان نبیًّا، وجابر ہٰذا ہو ابن یزید الجعفی وھو ضیعفٌ۔ اھـ (ج۳، ص۴۴۳)-
وأیضًا فی التفسیر لابن الکثیر: عن قتادۃ قال خیّر اﷲ لقمان الحکیم بین النبوۃ والحکمۃ فاختار الحکمۃ علی النبوۃ قال فأتاہ جبرئیل و ھو نائمٌ فذر علیہ الحکمۃ او رش علیہ الحکمۃ وقال فاصبح ینطق بہا قال سعید فسمعت عن قتادۃ یقول قیل للقمان کیف اخترت الحکمۃ علی النبوۃ وقد خیّرک ربّک فقال انّہ لوارسل الیّ بالنبوۃ عزمۃ لرجوت فیہ الفوز منہ ولکنت أرجوا ان اقوم بہا ولکنّہ خیّرنی فخفت ان أضعف عن النبوۃ فکانت الحکمۃ أحبّ إلیّ۔ اھـ (ج۳، ص۴۴۴)- واﷲ اعلم