کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس عقیدے کے بارے میں کہ ایک شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ جمعہ کے روز جو بھی شخص حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھے اور جہاں سے بھی پڑھے آپﷺ اس کی آواز اور درود کو بلا واسطہ سنتے ہیں، دوسری بات یہ ہے کہ کیا مسجد نبوی کے احاطے میں درود پڑھنے کو بھی آپﷺ بلاواسطہ سنتے ہیں یا صرف قبر کے پاس بلاواسطہ سنتے ہیں؟ ان دو باتوں کا حکم شرعاً کیا ہے؟کیا اس طرح عقیدہ درست ہے؟ بینوا توجرواعند الله
نبی اکرم ﷺ اپنے روضہ مبارکہ میں حیات ہیں، اور آپ کی یہ حیات برزخی ، مثل دنیا کے ہے ، بلکہ اس سے بھی اعلی و ارفع ہے، اس لئے حدیث مبارک کی رو سے جو شخص روضۂ اطہر کے پاس کھڑے ہو کر آپ پر درود پڑھتا ہے، تو آپ ﷺ اسے سنتے بھی ہیں ، اور جواب بھی دیتے ہیں ہے اور جو شخص روضۂ مبارکہ سے دور آپ پر درود بھیجتا ہے، تو مخصوص فرشتوں کے ذریعے آپ ﷺ کو اس کا درود پہنچایا جاتا ہے، لہذا کسی شخص کا یہ عقیدہ رکھنا کہ جمعہ کے دن دور سے بھی آپﷺ پردرود پڑھنے کو آپ ﷺ بلا واسطہ سنتے ہیں، احادیثِ مبارکہ کی رو سے یہ عقیدہ درست نہیں۔
کما فی فتح الباري لابن حجر : وَعِنْدَ أَبِي دَاوُدَ وَالنَّسَائِيِّ وَصَحَّحَهُ بن خُزَيْمَةَ وَغَيْرُهُ عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ رَفَعَهُ فِي فَضْلِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ تُعْرَضُ صَلَاتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرَّمْتَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ (6/ 488)۔
وفي الحبائک في أخبار الملائك : وأخرج الديلمي عن أبي بكر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أكثروا الصلاة على، فإن الله وكل بي ملكا عند قبري، فإذا صلى على رجل من أمتي قال لي ذلك الملك: يا محمد إن فلان ابن فلان صلى عليك الساعة . (ص: (123) ۔
وفى مرقاة المفاتيح : ولا شك أن الصلاة في الحضور أفضل من الغيبة. انتهى. لأن الغالب حضور القلب عند الحضرة والغفلة عند الغيبة ( ومن صلى علي نائيا ") ، أي من بعيد كما في رواية: أي بعيدا عن قبری (ابلغتہ) و فی نسخہ صحیحہ: بلغتہ من التبلیغ ، ای : اعلمتہ کما فی روایہ(2/749)۔
و فی مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح : ثم انهض متوجها إلى القبر الشريف فتقف بمقدار أربعة أذرع بعيدا عن المقصورة الشريفة بغاية الأدب مستدبرا القبلة محاذيا لرأس النبي صلى الله عليه وسلم، ووجهه الأكرم ملاحظا نظره السعيد إليك وسماعه كلامك ورده عليك سلامك وتأمينه على دعائك وتقول: السلام عليك يا سيدي يا رسول الله السلام عليك يا نبي الله(ص: 283)۔