السلام علیکم! میرے شوہر نے مجھے کہا تھا کہ "میں تمہیں طلا ق دیتا ہوں ۔ میں دیتا ہوں " کیا دو دفعہ دیتا ہوں کہنے سے ایک طلاق ہوگی یاد و ہوں گی، اس شوہر سے دوبارہ رجوع کرنے کے لئے نیا نکاح کرنے کی ضرورت ہے ؟
صورت مسئولہ میں جب سائلہ کے شوہر نے دو دفعہ یہ الفاظ استعمال کئے کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ، میں دیتا ہوں تو اس سے سائلہ پر دو طلاق رجعی واقع ہوگئی ہیں، جسکے بعد سائلہ کے شوہر کو عدت کے اندر رجوع کرنے کا اختیار حاصل ہے، لیکن اگر اس نے عدت میں رجوع نہ کیا ہو تو عدت گزرنے سے یہ دو طلاقیں، بائنہ بن جائیں گی جسکی وجہ سے دونوں کا نکاح ختم ہو جائے گا، جسکے بعد بغیر نکاح کے دونوں کیلئے ایک ساتھ رہنا جائز نہ ہو گا، تاہم اگر دونوں میاں بیوی دوبارہ ساتھ رہنا چاہتے ہوں ، تو اسکے لئے با قاعدہ گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ عقد نکاح لازم ہو گا، البتہ اس نکاح کے بعد سائلہ کے شوہر کو فقط ایک طلاق کا اختیار ہو گا جب کبھی وہ ایک طلاق بھی دیدے گا تو سائلہ اس پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہو جائے گی اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں احتیاط کی ضرورت ہے۔
كما في الهداية باب الرجعة:وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض لقوله تعالى ( فأمسكوهن بمعروف } [ البقرة : ۲۳۱ ) من غير فصل ولا بد من قيام العدة لأن الرجعة استدامة الملك ألا ترى أنه سمي إمساكا وهو الإبقاء وإنما يتحقق الاستدامة في العدة لأنه لا ملك بعد انقضائها والرجعة أن يقول راجعتك أو راجعت امرأتى وهذا صريح في الرجعة ولا خلاف فيه بين الأئمة . قال : أو يطأها أو يقبلها أو يلمسها بشهوة أو ينظر إلى فرجها بشهوة وهذا عندنا ( ج ۲ ص ۲۵۲)
وفي الشامية وينكح مبائنة بمادون الثلاث في العدة وبعدها اھ (3/281) واللہ اعلم بالصواب