السلام علیکم ورحمۃ الله وبركاتہ محترم مفتی صاحب!
میرا سوال یہ ہے کہ میں ایک بزرگ جو ”حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب“ کے خلیفہ مجاز وبیعت ہیں,
کراچی میں ان کی خانقاہ ہے، میں اصلاحی مجالس میں آتا جاتا ہوں، وہاں حضرت والا جب کلمہ طیبہ کا ذکر کراتے ہیں، تو پورا کلمہ توحید پڑھنے کے بعد ”صلی اللہ علیه وسلم “ بھی پڑھتے ہیں اور ہر سات آٹھ مرتبہ پورا کلمہ طیبہ پڑھنے کے بعد پھر ”صلی اللہ علیه وسلم “ پڑھتے ہیں اجتماعی ذکر کے دوران، تو میرا ایک دوست ہے وہ مجھے کہنے لگا کہ اس طرح آخر میں ”صلی اللہ علیه وسلم “ کہنا بدعت ہے، لیکن مجھے اس بارے میں علم نہیں ہے، براہِ کرم اس بارے میں میری راہنمائی فرما دیں تاکہ میں ان اللہ والوں سے بھر پور فائدہ اٹھالوں اور اپنا اصلاحی تعلق قائم رکھوں۔ جزاک اللہ خیراً
واضح ہو کہ کلمہ تو ”لا إله إلا الله محمد رسول الله“ ہی ہے، اس پر کسی قسم کا اضافہ درست نہیں، جبکہ آپ ﷺ کا نام مبارک جب بھی آئے، درود پڑھنا احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے، اس لئے کلمہ طیبہ کے بعد ﷺ پڑھنے کو بدعت کہنا درست نہیں، تاہم درود پڑھتے وقت یہ احتیاط کر نالازم ہے کہ لہجہ کچھ تبدیل ہو یا آہستہ آواز میں پڑھا جائے، تاکہ کلمہ پر اضافہ کا گمان نہ ہو۔( ماخوذ از فتاوی عثمانی بتغییر یسیر (۱/۵۵)