کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اور مفتیان دین قرآن و حدیث کی روشنی میں مسئلہ بیعت کے بارے میں کہ (1) بیعت کس کی جائے؟2) جو شخص ایک دفعہ بیعت کرے تو کیاوہ دوبارہ دوسری جگہ بیعت کر سکتا ہے ؟ 3) جس کی بیعت جائے اگر وہ شریعت کے تابع نہ ہو یا وہ کسی کبیرہ گناہ میں مبتلا ہو مثلاً زناکاری وشراب نوشی وغیرہ تو اس کی بیعت کی حیثیت کیا ہوگی ؟
واضح ہو کہ گناہوں سے بچنے اور نیک اعمال پر کار بند رہنے کے لئے کسی متبع شریعت شخص کی ہدایات پر عمل کرنے کے وعدہ کو بیعت کہا جاتا ہے ، لہذا بیعت ہر اس شخص کی کرنی چاہئے جو پابند سنت اور متبع شریعت ہو اور خود عامل ہونے کیساتھ ساتھ دوسروں کی اصلاح کے طریقہ کار سے بھی واقف ہو، اور ایک دفعہ کسی متبع شریعت پیر کی بیعت کرنے کے بعد بلا کسی وجہ کے اسے توڑنا نہیں چاہئے، البتہ اگر کوئی عذر ہو مثلاً بار بار اسکی صحبت میں حاضر ہونے کا موقع میسر نہ ہو یا کوئی اور عذر ہو تو ایسی صورت میں اس پیر کی بیعت سے نکل کر کسی دوسرے متبع سنت پیر کی بیعت کرنا بھی درست ہے، جبکہ جو شخص خود شریعت کا پابند نہ ہو کبیرہ گناہوں میں مبتلا ہو تو ایسے شخص کی بیعت کرنا درست نہیں۔
في الصحيح المسلم : عن عبادة بن الوليد بن عبادة، عن أبيه، عن جدہ قال "بایعنا رسول اللہ ﷺ على السمع والطاعة في العسر واليسر، قال:والمنشط والمكره الخ (۲/۱۲۵)
وفيه : عن أبي عبد الرحمن، عن علي، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث جيشا، وأمر عليهم رجلا الى قوله) وقال: «لا طاعة في معصية الله، إنما الطاعة في المعروف» (۲/۱۲۵) واللہ اعلم بالصواب