السلام علیکم!
میرا سوال یہ ہےکہ وسیلہ دینا صحیح ہے یا نہیں؟ کسی کا بھی وسیلہ دیا جاسکتا ہے؟جو لوگ اولیاء کا وسیلہ دیتے ہیں، کیا یہ صحیح ہیں یا نہیں؟ براہ کرم اس کا جواب قرآن وحدیث کی روشنی میں دیں۔
وسیلہ چاہے اعمال صالحہ کے ذریعہ ہو یا ذوات فاضلہ یعنی انبیاء و صلحاء کا، دونوں طریقہ سے شرعا جائز اور احادیث و آثار صحابہ اور سلف سے ثابت ہے، مگر وسیلہ کی بعض صورتیں ایسی بھی ہیں جو شرعاً جائز نہیں ، اس لئے سائل کو جس صورت سے متعلق معلوم کرنا ہو اس کے متعلق سوال دوباره ای میل کر دے ان شاء اللہ اس کے حکم شرعی سے بھی آگاہ کر دیا جائے گا۔
ففي محق التقول في مسألة التوسل - محمد زاهد الكوثري: وعلى التوسل بالأنبياء والصالحين أحياء وأمواتا جرت الأمة طبقة فطبقة. وقول عمر رضي الله عنه في الإستسقاء: " إنا نتوسل إليك بعم نبينا " نص في توسل الصحابة بالصحابة، (إلی قوله) وقوله (كنا نتوسل) فيه أيضاً ما في الجملة الأولى، وعلى أن قول الصحابي: كنا نفعل كذا ينصب على ما قبل القول فيكون المعنى أن الصحابة رضي الله عنهم كانوا يتوسلون به صلى الله عليه و سلم في حياته، وبعد لحوقه بالرفيق الأعلى إلى عام الرمادة. (ص: 3) والله اعلم بالصواب